ریاض حسین
لاہور/پشاور: پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیر کے روز فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 530 سے تجاوز کر گیا، جبکہ فضا میں انتہائی باریک آلودہ ذرات (پی ایم 2.5) کی مقدار 343 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔
پنجاب کے دیگر کئی شہروں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح انتہائی بلند رہی، جس سے شہریوں کی صحت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
فضائی آلودگی کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق پیر کی صبح 8 بجے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 535 ریکارڈ کیا گیا، جو خطرناک درجے میں شمار ہوتا ہے۔ اس دوران فضا میں پی ایم 2.5 آلودہ ذرات کی مقدار 343 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی۔
یہ انتہائی باریک ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچنے اور خون میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
آلودگی کی خراب صورتحال صرف لاہور تک محدود نہیں رہی۔ پیر کی صبح آئی کیو ایئر کی جانب سے جاری کردہ پاکستانی شہروں کی درجہ بندی میں ملک کے چھ سب سے آلودہ شہروں میں سے پانچ کا تعلق پنجاب سے تھا۔
درجہ بندی کے مطابق گوجرانوالہ 606 اے کیو آئی کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، لاہور 509 کے ساتھ دوسرے، فیصل آباد اور ملتان 310 کی یکساں سطح کے ساتھ تیسرے اور سیالکوٹ 260 کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے، جبکہ پشاور 216 اے کیو آئی کے ساتھ چھٹے نمبر پر تھا۔
بعد ازاں گھنٹہ وار اپ ڈیٹس میں گوجرانوالہ کا اے کیو آئی 675 اور لاہور کا 535 ریکارڈ کیا گیا، جو خطے میں فضائی آلودگی کی تیزی سے بدلتی اور بگڑتی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماحولیاتی ماہر اور محقق محمد داؤد خان نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہری مراکز میں اسموگ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، تاہم اس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے مطابق، "شہری علاقوں میں اسموگ کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں اور صنعتی سرگرمیوں سے نکلنے والا دھواں، تعمیراتی کاموں سے پیدا ہونے والی گردوغبار، زرعی سرگرمیاں اور دیگر ماحولیاتی عوامل شامل ہیں۔”
محمد داؤد خان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلے کی سنگینی کے باوجود ملک بھر میں اسموگ پر قابو پانے اور شہریوں کو اس کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی مؤثر حکومتی حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔
ان کا کہنا تھا کہ، "شہری فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے زیادہ تر اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات کر رہے ہیں، جن میں فیس ماسک کا استعمال بھی شامل ہے۔”
پنجاب حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے چین سے اینٹی اسموگ گنز درآمد کی ہیں، جو فضا میں پانی کا چھڑکاؤ کرکے گردوغبار اور آلودگی کے ذرات کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
تاہم ان کے بقول، یہ اقدامات اسموگ کے مسئلے کا جامع اور دیرپا حل فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، کیونکہ فضائی آلودگی کے متعدد بنیادی ذرائع پر قابو پانا ضروری ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں بھی اسموگ سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے شہری بڑی حد تک فضائی آلودگی میں کمی کے لیے بارش کے منتظر رہتے ہیں۔
محمد داؤد خان نے زور دیا کہ، "اسموگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل حکومتی اقدامات، آلودگی کے ذرائع کی باقاعدہ نگرانی اور مؤثر ماحولیاتی پالیسی ضروری ہے، نہ کہ صرف موسمی بارشوں پر انحصار کیا جائے۔”
دوسری جانب پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (پی اے کیو آئی) کے ایک نئے تجزیے نے لاہور میں اکتوبر کے دوران فضائی آلودگی میں بہتری سے متعلق حکومتی دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ لاہور میں گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں رواں سال اکتوبر کے دوران ہوا کا معیار بہترین رہا۔ تاہم پی اے کیو آئی کے مطابق اکتوبر 2026 میں 26 مانیٹرنگ مقامات پر پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 27 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔
اس کے باوجود نومبر کے آغاز پر لاہور میں فضائی آلودگی کی خطرناک سطح تک پہنچنے سے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا اکتوبر میں ریکارڈ کی گئی بہتری کو شہر کی مجموعی فضائی صورتحال میں نمایاں اور پائیدار بہتری قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
ادھر پنجاب میں زرعی زمینوں پر آگ لگنے کے واقعات میں نمایاں اضافے نے بھی اسموگ کی شدت بڑھنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ماحولیاتی نگرانی کی ویب سائٹ ہماری ہوا (HamariHawa) کے شائع کردہ تجزیے کے مطابق یکم سے 29 اکتوبر کے دوران ناسا کے سیٹلائٹس نے پاکستانی پنجاب میں آگ لگنے کے 13 ہزار 241 مقامات کی نشاندہی کی، جبکہ بھارتی پنجاب میں ایسے مقامات کی تعداد 3 ہزار 158 رہی۔ اس طرح پاکستانی پنجاب میں آگ کے نشاندہی شدہ مقامات کی تعداد بھارتی پنجاب کے مقابلے میں تقریباً 4.2 گنا زیادہ تھی۔
تجزیے کے مطابق پاکستانی پنجاب میں شناخت کیے گئے تقریباً 92 فیصد مقامات زرعی زمینوں پر تھے، جہاں فصلوں کی باقیات جلائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر کے آخری سات دنوں کے دوران آگ کے 6 ہزار 655 مقامات کی نشاندہی ہوئی، جو پورے مہینے کے تقریباً نصف کے برابر ہے، جبکہ 29 اکتوبر کو سب سے زیادہ ایک ہزار 327 مقامات پر آگ ریکارڈ کی گئی۔
مختلف اضلاع میں اوکاڑہ 2 ہزار 144 مقامات کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ گوجرانوالہ میں ایک ہزار 11 اور ننکانہ صاحب میں ایک ہزار 3 مقامات پر آگ کی نشاندہی کی گئی۔
تجزیے کے نتائج لاہور کے گردونواح میں واقع چاول کی کاشت کے علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کے وسیع پیمانے پر جاری عمل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان آگ سے اٹھنے والا دھواں گاڑیوں، صنعتی سرگرمیوں، تعمیراتی کاموں اور آلودگی کے دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے ساتھ مل کر پورے خطے میں فضائی آلودگی کی شدت میں اضافہ کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق کم رفتار ہوائیں اور فضائی درجہ حرارت کی الٹ پھیر (ٹمپریچر انورژن) جیسی موسمی صورتحال آلودہ ذرات کو زمین کے قریب فضا میں روک لیتی ہے، جس سے اسموگ کی شدت بڑھ جاتی ہے اور شہریوں کو زیادہ دیر تک آلودہ فضا میں سانس لینا پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے صنعتی اور گاڑیوں کے دھوئیں پر قابو پانے، فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام، فضائی آلودگی کی مؤثر نگرانی اور صوبوں کے درمیان مربوط ماحولیاتی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق اگر اس حوالے سے مستقل اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو خطرناک اسموگ پاکستان کے بڑے شہروں کے لیے صحت عامہ اور ماحولیات کا ایک مسلسل مسئلہ بنی رہے گی۔