پشاور (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ فی الحال تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاہم اگر جواب دینے پر آئے تو مخالفین کے لیے اسے برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے آرمی چیف سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کبھی ملاقات ہوئی تو وہ ان کی اخلاقی گراوٹ کا معاملہ ان کے سامنے ضرور اٹھائیں گے۔
پشاور میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغانستان سے منسلک اضلاع کے بعد اب کوہاٹ ڈویژن میں بھی ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے، کیونکہ ان کے بقول وہاں سے بھی اسمگلنگ کا راستہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کا مؤقف غلط ہے تو مخالفین دلیل کے ساتھ جواب دیں۔
خواجہ آصف کے ردعمل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ خواجہ آصف ان کے محترم اور بڑے بھائی ہیں، انہوں نے تو صرف ان کی گدگدی کی تھی، لیکن وہ ناراض ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق انہیں اگلے روز غصہ آیا، جو ان کے بقول ان کے اپنے ہی منہ پر لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی بااثر شخصیات ان پر حاوی ہونے کی کوشش کر چکی ہیں، لیکن وہ کسی سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی انہیں آزمانا چاہتا ہے تو ہاتھ لگا کر دیکھ لے۔
مولانا فضل الرحمان نے سوشل میڈیا پر مبینہ پروپیگنڈے اور کارکنوں کے خلاف استعمال ہونے والی زبان پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ سب کون کر رہا ہے اور کہا کہ ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو آرمی چیف کی ناک کے نیچے ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ برملا آرمی چیف سے شکایت کرتے ہیں اور موقع ملنے پر یہ معاملہ ان کے سامنے بھی رکھیں گے۔ ان کے بقول انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ ایک حافظِ قرآن بھی اس حد تک اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ کرے گا۔
افغانستان جانے کے مشورے پر ردعمل دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو لوگ انہیں افغانستان جانے کا کہتے ہیں، انہیں پہلے اپنا نسب نامہ اور تاریخ بتانی چاہیے۔ انہوں نے ایسے لوگوں کے آباؤ اجداد پر انگریزوں کا وفادار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو اس طرح کی باتیں کرنی ہیں تو وہ برطانیہ جا کر رہے۔
ملکی معیشت اور بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ پاکستان نے چین کو مایوس کیا اور اس کی سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ چین کی جگہ اب امریکا سرمایہ کاری کر رہا ہے اور امریکی حکام بھی ان کے سامنے اس حوالے سے بات کر چکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے خوبصورت پتھر امریکا لے جا کر وہاں کے دفاتر میں پیش کیے گئے ہیں اور امریکی سفیر بھی اپنے ایک انٹرویو میں اس معاملے کا ذکر کر چکی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ بعض پاکستانی سیاست دان ملکی وسائل سے متعلق فیصلوں میں پہلے اپنے حصے اور مفادات کا تعین کرتے ہیں اور بعد میں ملک کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات میں بعض سیاست دانوں کی ترجیحات ملکی مفاد کے بجائے اپنے بیرونی سرپرستوں کے مفادات ہوتی ہیں۔