حمید سمسور
بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں انسانی اسمگلر بہتر مستقبل اور یورپ پہنچنے کا خواب دکھا کر افغان شہریوں سمیت دیگر افراد کو ایران اور پھر یورپی ممالک منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے درجنوں افغان شہریوں کو حراست میں لے لیا۔
ایک اعلیٰ عہدے دار نے بتایا کہ ضلع پنجگور کے علاقے پروم میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی اور 173 غیر قانونی افغان باشندوں کو حراست میں لے لیا۔
عہدے دار کے مطابق، حراست میں لیے گئے افغان باشندوں کو مزید کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
گرفتار افغان باشندے انسانی اسمگلروں کے ذریعے پاکستان کے راستے ایران اور پھر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ عہدے دار نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کے پاس کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
حکام کے مطابق، ایسے افراد ایران، ترکی اور یورپی ممالک جانے کی کوشش کے دوران انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
سرکاری حکام نے بتایا کہ گزشتہ ستمبر میں ضلع ژوب کے علاقوں دانہ سر اور دشتِ میرانی میں بھی تقریباً 200 غیر قانونی افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحدی علاقوں میں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
بلوچستان: انسانی اسمگلنگ کی راہداری
ایف آئی اے کے ایک سابق اہلکار نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند افراد کو انسانی اسمگلر بلوچستان کے راستے منتقل کرتے ہیں، کیونکہ بلوچستان کے اضلاع چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھتے ہیں، جبکہ یہ علاقے بحیرۂ عرب کے ساحل کے ساتھ بھی واقع ہیں۔
انسانی اسمگلر پہلے ان افراد کو ایران لے جاتے ہیں، جس کے بعد ترکی کے راستے یونان اور دیگر یورپی ممالک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سابق اہلکار کے مطابق، ہر سال پاکستان اور ایران میں 18 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوتے ہیں، جن میں گوجرانوالہ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔