غزہ( پاک ٹوڈے): اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شدید خستہ حالی کا شکار ہونے والی ایک کثیر منزلہ عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں 5 بچوں سمیت کم از کم 16 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ حادثے کے بعد قریبی رہائشی مکانات اور بے گھر افراد کے قائم کردہ خیمے بھی ملبے کی زد میں آ گئے، جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا اور مقامی ریسکیو ذرائع کے مطابق، منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے اس وقت بھی کم از کم 100 فلسطینیوں کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں سے نصف کے قریب (تقریباً 50) بچے شامل ہیں۔
غزہ سول ڈیفنس اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اب تک ملبے سے 16 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں جبکہ 12 افراد کو معجزانہ طور پر زندہ بچا لیا گیا ہے۔ تاہم، علاقے میں شدید بمباری کے باعث بھاری مشینری اور ضروری سامان کی عدم دستیابی کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
سول ڈیفنس حکام کے مطابق، عمارت سابقہ اسرائیلی بمباری اور مسلسل لرزش کے باعث انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر چکی تھی اور آج صبح اچانک گر گئی۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ مسلسل بمباری اور طویل محاصرے کی وجہ سے غزہ بھر میں ہزاروں ایسی عمارتیں موجود ہیں جو نیم تباہ شدہ ہیں اور اب وہ کسی بھی وقت گرنے کے شدید خطرے سے دوچار ہیں، جس سے شہری آبادی مسلسل غیر محفوظ ہے۔
امدادی اہلکار ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ نیچے پھنسے ہوئے افراد خصوصاً بچوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔