ایران کے سرحدی علاقے میں 17 افغان مہاجرین پیاس سے جاں بحق ہونے کی اطلاعات

سراوان (پاک ٹوڈے) ہال ویش نیوز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایران کے سراوان ریجن کے روتک سرحدی علاقے میں واقع ’’مک سوختہ‘‘ کے مقام پر کم از کم 17 افغان مہاجرین، جن میں متعدد بچے بھی شامل ہیں، مبینہ طور پر پیاس کے باعث جاں بحق ہوگئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشیں سرد خانے میں گنجائش کی کمی کے باعث سراوان کے علاقے خاش منتقل کی گئی ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق افراد میں افغانستان کے صوبہ بغلان سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے 5 افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں 45 سالہ خاتون اور ان کی چار بیٹیاں شامل ہیں، جن کی عمریں 14 سے 22 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد کو سرحدی علاقے میں شدید گرمی اور پانی کی شدید کمی کا سامنا تھا، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات اور ہلاکتوں کی وجوہات سے متعلق مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ ابتدائی اطلاعات ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد اور وجوہات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

Related posts

افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں پاکستانی فوج کی مبینہ گولہ باری، ایک نوجوان جاں بحق، 2 طلبہ زخمی

مکہ معاہدہ ایران کے مؤقف سے زیادہ ہم آہنگ ہے، محسن رضائی

بدخشان کے گورنر کا پاکستان پر افغان نوجوانوں کو پیسوں کے عوض لڑائی کے لیے بھیجنے کا الزام