کابل (پاک ٹوڈے): افغانستان کے صوبہ بدخشان کے گورنر رحمت اللہ نجیب نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان نوجوانوں کو رقم کی ادائیگی کے وعدے پر افغانستان میں لڑائی کے لیے بھیجا جاتا ہے، تاہم بعد میں انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کے باعث بعض نوجوان ہلاک یا گرفتار ہو جاتے ہیں۔
بدخشان میں وزارت سرحدات، اقوام و قبائل کے زیر اہتمام ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رحمت اللہ نجیب نے کہا کہ نوجوانوں سے مالی ادائیگی کے وعدے بھی پورے نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے قبائلی عمائدین پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو مسلح سرگرمیوں سے دور رکھیں۔
گورنر بدخشان نے افغانستان کی موجودہ حکومت کے مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں واضح کرنا چاہیے کہ وہ کن مقاصد کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول مسلح جھڑپوں کے نتیجے میں عام شہریوں اور بے گناہ افراد کی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت سرحدات، اقوام و قبائل کے نائب وزیر عنایت اللہ شجاع نے بھی دعویٰ کیا کہ بعض افراد کو افغانستان میں لڑائی کے لیے سرحد پار سے بھیجا گیا، لیکن بعد میں انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واپسی کا راستہ بند ہونے اور شدید سردی کے باعث بعض افراد جان سے گئے۔
نائب وزیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں افغانستان میں جنگ اور مسلح جھڑپوں کا وقت نہیں ہے۔