پاک افغان کشیدگی: سرحدی جھڑپوں کی قیمت کون چکا رہا ہے؟

حمید سمسور کی رپورٹ

پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ 27 اکتوبر کو جنوبی وزیرستان کے اہم سرحدی گزرگاہ انگور اڈہ کے علاقے میں پاکستان اور افغانستان کے سکیورٹی اداروں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق خیبر پختونخوا کے اضلاع جنوبی وزیرستان اور پاراچنار سے ملحقہ علاقوں میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو تباہ کر دیا گیا۔

ان کے بقول، پاکستانی فوج نے یہ جوابی کارروائی 27 اکتوبر کو انگور اڈہ کے مقام پر کابل انتظامیہ کے اہلکاروں کی جانب سے کی گئی بلا اشتعال فائرنگ کے ردعمل میں کی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انگور اڈہ سیکٹر میں سرحد پار سے تشدد کے بار بار پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں پیش آیا۔ ان کے مطابق یہ جھڑپیں فروری میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد ہوئیں، جب پاکستان نے ’آپریشن غضب للحق‘ کا آغاز کیا تھا۔

اسلام آباد بارہا کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے سے روکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہر بار دونوں ممالک ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں اور دونوں جانب سے متضاد مؤقف سامنے آتے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی جانب سے چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جس کے جواب میں کارروائی کی گئی، جبکہ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پہلے ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے بعد انہیں جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں خراب امن و امان کی صورتحال

ستمبر 2026 میں پاکستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال میں عسکریت پسندانہ تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ملک بھر میں 225 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو اگست میں ہونے والے 199 حملوں کے مقابلے میں 13.1 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ 12 برسوں کے دوران کسی ایک ماہ میں ریکارڈ کیے گئے حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ہلاکتوں کی تعداد 158 سے بڑھ کر 259 ہوگئی، جو 64 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد میں بھی 33.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 242 تک پہنچ گئی۔

بلوچستان بدستور تشدد کا مرکزی مرکز رہا، جہاں 131 حملے ہوئے، جو ملک بھر میں ہونے والے مجموعی حملوں کا 58.2 فیصد بنتے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مرکزی اضلاع میں عسکریت پسندانہ تشدد کی شدت اور مہلکیت میں خاص طور پر تیزی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس سابقہ فاٹا کے اضلاع میں حملوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

سکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں کی رفتار برقرار رکھی اور 74 اہم انسدادِ شدت پسندی آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 280 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 35 آپریشنز بلوچستان میں کیے گئے، جن میں 171 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ سابقہ فاٹا میں 15 اور خیبر پختونخوا میں 19 آپریشنز کے دوران بھی عسکریت پسندوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں کوئی نئی بات نہیں، لیکن سرحد کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں کے لیے یہ صورتحال زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔

تجزیہ کار رفعت اللہ اورکزئی کا تجزیہ کیا ہے؟

رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے:

”انگور اڈہ میں ہونے والا حملہ گزشتہ ایک سال سے جاری کشیدگی کا تسلسل ہے۔ گزشتہ سال 12 اکتوبر کو پاکستان نے حملہ کیا تھا، جس کے بعد پاکستان کے ضلع کرم کے خرلاچی اور اس کے سامنے افغانستان کے صوبے پکتیا میں بھی اس طرح کی جھڑپیں ہوئی تھیں۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور حافظ گل بہادر گروپ کے تمام اہم سربراہان افغانستان میں موجود ہیں اور کابل انتظامیہ کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

دوسری جانب افغان طالبان پاکستان کے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی اور نہ ہی افغانستان کی سکیورٹی ذمہ داریاں پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دیتی ہیں۔“

تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کیے گئے حملوں کے دوران تحریک طالبان پاکستان کا کوئی بڑا یا اہم رہنما ہلاک نہیں ہوا۔

تاجروں کی تشویش

تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بدامنی کے باعث اکتوبر 2025 سے تمام تجارتی راستے بند ہونے کی وجہ سے تجارت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ سیاسی معاملات اور تجارت کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جائے۔

انجینئر دارو خان اچکزئی، جو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور تاجر رہنما ہیں، کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے دونوں ممالک کی تجارت کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔

ان کے بقول:
”ایک سال کا عرصہ ہوگیا ہے کہ پاک افغان بارڈر بند پڑا ہے۔ کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات سرحد کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ لوگوں کی روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ بہت سے دیگر معاملات بھی متاثر ہوچکے ہیں۔“

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس پر طورخم، خرلاچی، غلام خان، انگور اڈہ، چمن اور بادینی سمیت اہم تجارتی گزرگاہیں واقع ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں گزشتہ سال بھی ہوئی تھیں، جس کے بعد اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔ اس عمل میں چین، ترکی، سعودی عرب اور قطر نے کردار ادا کیا تھا، تاہم اس کے باوجود سرحدی حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ نہیں رک سکا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث وسطی اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو جلد از جلد تجارتی راستے کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔

Related posts

افغان حکومت نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی ثالثی کا خیرمقدم کردیا

نوشہرہ میں ایم این اے سید شاہ احد علی شاہ کے گھر پر نامعلوم افراد کا دھاوا، توڑ پھوڑ کی اور چلے گئے

مدارس کی رجسٹریشن پر خیبرپختونخوا میں نیا تنازع، بندش کی مبینہ دھمکیوں پر دینی تنظیمیں سراپا احتجاج