اسلام آباد (پاک ٹوڈے): سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران تشدد سے متعلق اموات میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے پہلی اور دوسری سہ ماہی میں سامنے آنے والی کمی کا رجحان تبدیل ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق اس اضافے میں بلوچستان کا نمایاں حصہ رہا، جہاں تشدد سے متعلق اموات تین گنا سے زیادہ بڑھ گئیں اور صوبے نے ملک میں مجموعی اضافے کا تقریباً 88 فیصد حصہ بنایا۔
بلوچستان نے خیبرپختونخوا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تیسری سہ ماہی کے دوران تشدد سے متعلق اموات اور واقعات، دونوں حوالوں سے ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار پایا۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 1,415 افراد جاں بحق اور 558 زخمی ہوئے، جبکہ دہشت گرد حملوں اور انسداد کارروائیوں سمیت مجموعی طور پر 385 واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں مجموعی اموات کا 98 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ بلوچستان میں 829 اموات ہوئیں جو قومی مجموعے کا تقریباً 59 فیصد بنتی ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 556 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
واقعات کے اعتبار سے بھی بلوچستان 186 واقعات کے ساتھ سب سے آگے رہا جبکہ خیبرپختونخوا میں 173 واقعات رپورٹ ہوئے۔ تاہم زخمیوں کی تعداد خیبرپختونخوا میں زیادہ رہی جہاں 376 افراد زخمی ہوئے۔
سی آر ایس ایس کے مطابق دوسری سے تیسری سہ ماہی کے دوران اموات میں ہونے والا اضافہ 2021 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ بلوچستان میں اموات 265 سے بڑھ کر 829 ہوگئیں، جو 213 فیصد اضافہ ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں اموات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مسلح گروہوں سے وابستہ افراد کی اموات 921 رہیں، جو دو گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔ شہریوں کی اموات میں 36 فیصد جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کی اموات میں 79 فیصد اضافہ ہوا۔
سی آر ایس ایس رپورٹ کے مطابق حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروہوں میں تحریک طالبان پاکستان نے 13 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں 117 اموات ہوئیں۔ بلوچ لبریشن آرمی نے 5 حملوں کی ذمہ داری قبول کی جن میں 34 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ ایچ جی بی، آئی یو ایم کے 3 حملوں میں زخمیوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔
