پشاور (پاک ٹوڈے): خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے گزشتہ تین ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس عرصے کے دوران صوبے میں 6 ہزار 673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا، جبکہ مختلف خلاف ورزیوں پر 2 ہزار 668 مراکز کو جواب طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے اور 1 ہزار 465 غیر قانونی طبی مراکز سیل کر دیے گئے۔
ترجمان ہیلتھ کیئر کمیشن عزم رحمان کے مطابق تین ماہ میں 610 نئے طبی مراکز رجسٹر کیے گئے، جس کے بعد صوبے میں مجموعی رجسٹرڈ طبی مراکز کی تعداد 22 ہزار 910 ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں 108 طبی مراکز کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 52 کو مکمل لائسنس جاری کیے گئے۔ سال 2023 میں لائسنسنگ کا عمل شروع ہونے کے بعد سے اب تک 810 طبی مراکز کی جانچ پڑتال کی جا چکی ہے، جن میں سے 326 کو مکمل لائسنس مل چکے ہیں۔
کمیشن نے صحت کی خدمات کے معیار سے متعلق آٹھ تربیتی سیشن بھی منعقد کیے، جن میں مختلف اضلاع کے طبی مراکز سے تعلق رکھنے والے 198 ملازمین نے شرکت کی۔ اس دوران تربیت حاصل کرنے والے 359 طبی مراکز کو عبوری لائسنس جاری کیے گئے، جس کے بعد عبوری لائسنس رکھنے والے مراکز کی مجموعی تعداد 1 ہزار 178 ہوگئی ہے۔
شکایات کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ تین ماہ کے دوران کمیشن کو 267 نئی شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 203 نمٹا دی گئیں۔ سال 2022 سے اب تک موصول ہونے والی 5 ہزار 129 شکایات میں سے 5 ہزار 65 کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔
ڈائریکٹر آپریشنز ارسلان احمد خان کے مطابق رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے عمل میں تیزی لانے کا مقصد عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔