کراچی (پاک ٹوڈے): شہریوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کرنے کا ایک نیا اور خطرناک طریقہ سامنے آیا ہے، جس میں جعل ساز پارسل کی ترسیل کے بہانے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ اس فراڈ میں خواتین کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جعل ساز گروہ خود کو معروف کورئیر کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کر کے شہریوں کو کال کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا کوئی پارسل موصول ہوا ہے۔ ڈیلیوری مکمل کرنے یا ایڈریس کی تصدیق کے نام پر وہ شہریوں سے موبائل فون پر موصول ہونے والا ایک کوڈ مانگتے ہیں۔ دراصل یہ کوڈ واٹس ایپ کا ‘ویریفیکیشن کوڈ’ ہوتا ہے، اور جیسے ہی شہری یہ کوڈ جعل سازوں کو فراہم کرتے ہیں، ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کا کنٹرول ہیکرز کے پاس چلا جاتا ہے۔
اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد جعل ساز متاثرہ فرد کے کانٹیکٹ لسٹ میں موجود تمام دوستوں اور رشتہ داروں کو میسجز بھیج کر ہنگامی مالی امداد کے نام پر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نامعلوم شخص کو ٹیلی فون پر واٹس ایپ یا کوئی بھی تصدیقی کوڈ ہرگز شیئر نہ کریں۔