حزب اللہ اور ایران کے درمیان مالیاتی نیٹ ورک نشانے پر

بین الاقوامی ڈیسک (پاک ٹوڈے): امریکہ نے لبنانی تنظیم حزب اللہ پر نئی معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کا بنیادی مقصد حزب اللہ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب (قدس فورس) کے مابین مالیاتی رابطوں اور فنڈنگ کے ذرائع کو مکمل طور پر کاٹنا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جمعرات کو اٹھایا گیا یہ اقدام ایران کے خلاف جاری سخت اقتصادی مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت حزب اللہ اور قدس فورس کے ساتھ مالیاتی لین دین میں ملوث افراد، ایکسچینج ہاؤسز اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں میں 10 افراد کو ہدف بنایا گیا ہے جن میں ایک ترک تاجر بھی شامل ہے، جس پر ترکیہ کے ایکسچینج ہاؤسز اور کوریئرز کے ذریعے قدس فورس اور حزب اللہ کے کھاتوں میں اربوں کی رقوم منتقل کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ حزب اللہ کے تعلیمی و فلاحی اداروں کے استعمال میں رہنے والے مالیاتی روٹس کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کا مالی یا امدادی سہارا دینے والے ممالک کو شدید نتائج بھگتنا ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے آئندہ پیر کو پریس کانفرنس کے دوران ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کا اعلان کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

Related posts

روس میں افغان فوجی وفد کی شمالی کوریا کے دفاعی اتاشی سے ملاقات

آبنائے ہرمز کی بندش، پاکستان نے قطر سے 3 ایل این جی کارگو لینے کا فیصلہ کرلیا

افغان حکومت کا عالمی فوجداری عدالت کے نئے گرفتاری وارنٹس مسترد کرنے کا اعلان