جامعہ کراچی: اساتذہ بھی غیر محفوظ، گاڑیوں کے شیشے توڑ کر چوری کی وارداتوں نے سیکیورٹی کے دعوے بے نقاب

کراچی (پاک ٹوڈے): جامعہ کراچی کے احاطے میں سیکیورٹی کے تمام تر دعووں اور بلاتفریق حفاظتی اقدامات کے باوجود چوری اور بدامنی کے مسلسل واقعات نے تعلیمی ادارے کی انتظامی صلاحیت اور سیکیورٹی نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شعبہ ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر باسط کی گاڑی کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے دوران نامعلوم ملزمان نے نشانہ بنایا۔ ملزمان نے پارکنگ میں کھڑی گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ توڑ کر اندر موجود موبائل فون، نقدی اور انتہائی اہم ذاتی و سرکاری دستاویزات پر ہاتھ صاف کر لیا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور جامعہ انتظامیہ نے روایت کے مطابق تحقیقات شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ابتدائی تفتیش نے سیکیورٹی کا قلعی کھول دی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ احاطے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی کوریج اس قدر ناقص اور محدود ہے کہ واردات کا مقام کیمروں کی زد میں ہی نہیں تھا۔ مزید برآں، سیکیورٹی گارڈ کی ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ واقعے کے وقت ڈیوٹی کا مقام چھوڑنے کا اعتراف کر رہا ہے۔

جامعہ کراچی کی حدود میں اساتذہ کی گاڑیوں کو یوں کھلے عام نشانہ بنانے اور سیکیورٹی عملے کی شدید غفلت پر اساتذہ، طلبہ اور ملازمین میں شدید تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ انتظامیہ کے حفاظتی دعووں پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

Related posts

تربت: خیرآباد میں ایف سی کے موٹر کیڈ پر حملہ، 1 اہلکار مارا گیا، 3 زخمی

غزہ: گزشتہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری سے مزید 9 فلسطینی شہید

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آیت نور کے والد کے سامنے جذباتی ہو کر رو پڑے، 1 کروڑ کی امداد اور ’آیت نور بل‘ کا اعلان