کوئٹہ (پاک ٹو ڈے): جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر اور سینیٹر مولانا عبدالواسع نے صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کو محفوظ اور باوقار زندگی کی فراہمی ریاستی اور آئینی ذمہ داری ہے، مگر آج بلوچستان کے عوام اس بنيادی حق سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
جے یو آئی کے صوبائی سربراہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں عدم تحفظ کی فضا اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عام شہری گھر سے نکلتے وقت اپنی محفوظ واپسی سے متعلق غیر یقینی کا شکار ہے۔ اہم قومی و بین الصوبائی شاہراہیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں جبکہ قانون کی حکمرانی کو کھلے عام چیلنج کیا جا رہا ہے۔
سینیٹر مولانا عبدالواسع نے موجودہ بحران کا ذمہ دار ماضی کی سیاسی انجینئرنگ اور محلاتی سازشوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو پسِ پشت ڈالنے کی پالیسیوں نے سیاسی اداروں کا وقار مجروح کیا اور حکومتی رٹ کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے نام نہاد منصوبہ سازوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والوں نے ہمیشہ بلوچستان کے جمہوری اور عوامی اختیار کو متاثر کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلسل بدامنی اور تخریب کاری کے باعث صوبے کا بنیادی ڈھانچہ اور ترقیاتی بنیادیں تباہ ہو رہی ہیں، جس سے بلوچستان ایک بار پھر نوے کی دہائی جیسی پرتشدد اور تاریک صورتحال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
جے یو آئی رہنما نے واضح کیا کہ بلوچستان کو کسی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت، سازش یا مصنوعی سیاسی بندوبست کے بجائے آئین، جمہوریت، مذاکرات اور انصاف کے ذریعے ہی پائیدار امن ممکن ہے۔ ریاست کو واقعی حالات بہتر کرنے ہیں تو اسے عوامی نمائندوں پر اعتماد کرنا ہوگا اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح بنانا ہوگی۔انہوں نے عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیت علماء اسلام اس کٹھن وقت میں بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے آئینی و جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے ہر فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی۔