لندن (پاک ٹو ڈے): انگلینڈ کے خلاف موجودہ ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ (ہیڈنگلے) میں اننگز اور 103 رنز کی سنگین شکست کا سامنا کرنے کے باوجود قومی ٹیم 27 اگست سے لارڈز کے تاریخی میدان پر شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں اہم نفسیاتی برتری کے ساتھ میدان میں اترے گی۔
سلسلے وار ناکامیوں کے بعد لارڈز میں کھیلے جانے والے اس اہم معرکے کے لیے پاکستان کی فائنل الیون میں نمایا ں تبدیلیاں متوقع ہیں، جس میں سابق کپتان بابر اعظم کی ٹیم میں واپسی اور مسلسل آؤٹ آف فارم وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو باہر بٹھائے جانے کا قوی امکان ہے۔
اگرچہ جاری سیریز کے افتتاحی میچ میں قومی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ریت کی دیوار ثابت ہوئی، لیکن اٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد لندن کی سرزمین پر واپسی پاکستان کے لیے مثبت پہلو ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے انگلینڈ میں ماضی کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو قومی ٹیم نے انگریزوں کی سرزمیں پر اب تک کل 13 ٹیسٹ میچز میں کامیابی حاصل کی ہے، جن میں سے 10 فتوحات محض لندن کے دو تاریخی میدانوں (لارڈز اور اوول) میں حاصل ہوئیں۔ لندن میں اپنے آخری تینوں ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان فاتح رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2016 کے دورے کے دوران پاکستان نے لارڈز ٹیسٹ میں 75 رنز اور اوول میں 10 وکٹوں سے شاندار فتح سمیٹی تھی۔ بعد ازاں 2018 میں سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم نے ایک بار پھر لارڈز کے میدان پر انگلینڈ کو 9 وکٹوں کی خفت آمیز شکست سے دوچار کیا تھا، جس میں فاسٹ بولر محمد عباس نے 8 وکٹیں حاصل کر کے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
لارڈز کا تاریخی گراؤنڈ اور ماضی کے ناقابلِ شکست لمحات قومی کھلاڑیوں کا مروجہ دباؤ کم کرنے اور سیریز میں کم بیک کرنے کے لیے بہترین ڈھال ثابت ہو سکتے ہیں۔