ڈیرہ اسماعیل خان: سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر کوآڈ کاپٹر ڈرون حملہ، 20 اہلکار زخمی

ڈیرہ اسماعیل خان (پاک ٹوڈے): گزشتہ شب ڈیرہ اسماعیل خان سے جنوبی وزیرستان جانے والے سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو کوآڈ کاپٹر ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 20 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

​ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے اہلکاروں میں فرنٹئیر کانسٹیبلری (ایف سی) کے 14 اور پاک فوج کے 5 جوانوں سمیت 20 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں اور سیکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے نزدیک ترین ملٹری اسپتال منتقل کر دیا ہے، جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

زخمی ہونے والوں میں ایف سی اور مختلف ملٹری یونٹس کے اہلکار شامل ہیں، جن میں ہدایت اللہ (ایف سی)، لانس نائیک انور، اسماعیل (ایس او جی)، سپاہی خوشحال، صوبیدار شبیر (20 ایف ایف)، سپاہی امداد اللہ، سپاہی ناہید، لانس نائیک محمد شاہد، صوبیدار جہانگیر (207 ایم آئی)، صوبیدار عابد علی، لانس نائیک جابر، لانس نائیک اصغر، لانس نائیک محمد وقاص، لانس نائیک صفت اللہ، لانس نائیک آصف، حولدار محمد حسن، سپاہی جمشید، سپاہی فاروق، مصور، اور نائیک حیدر علی شامل ہیں۔


Related posts

اپر دیر میں شدت پسندوں نے پولیس چیک پوسٹ کو آگ لگا کر جلا دیا۔

اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے ہولناک حادثہ؛ 14 نومولود بچے جاں بحق

مولانا فضل الرحمان کا آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی پر سخت ردِعمل ​صوبوں کی تقسیم کے بجائے حقوق کا تحفظ کیا جائے؛ آئین ٹوٹا تو سنبھالنا مشکل ہوگا: سربراہ جے یو آئی ​اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صوبوں کی تقسیم اور ان کے آئینی حقوق میں کمی کی تجاویز پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے سے ملک میں شدید انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ​ولادت النبی ﷺ کی مناسبت سے اپنے پیغام اور میڈیا گفتگو کے دوران جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے مالی و انتظامی وسائل پر سیندھ لگانے کے بجائے ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کا اصل مقصد عدل و مساوات کا نفاذ ہونا چاہیے، جبکہ پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ ملک، قوم اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی قومی مفادات کے منافی ہے۔ ​انہوں نے واضح کیا کہ دینی مدارس کی تعلیم کو ہدف بنانا یا پارلیمنٹ کو نظر انداز کر کے قانون سازی کرنا آئینی و جمہوری نظام کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوگا، لہٰذا تمام اداروں کو آئین کی بالادستی کا احترام کرنا چاہیے۔