اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صوبوں کی تقسیم اور ان کے آئینی حقوق میں کمی کی تجاویز پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے سے ملک میں شدید انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔
ولادت النبی ﷺ کی مناسبت سے اپنے پیغام اور میڈیا گفتگو کے دوران جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے مالی و انتظامی وسائل پر سیندھ لگانے کے بجائے ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کا اصل مقصد عدل و مساوات کا نفاذ ہونا چاہیے، جبکہ پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ ملک، قوم اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی قومی مفادات کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دینی مدارس کی تعلیم کو ہدف بنانا یا پارلیمنٹ کو نظر انداز کر کے قانون سازی کرنا آئینی و جمہوری نظام کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوگا، لہٰذا تمام اداروں کو آئین کی بالادستی کا احترام کرنا چاہیے۔