تل ابیب (پاک ٹوڈے): مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل جاری جنگی جنون اور عسکری ایڈونچر نے اسرائیلی دفاعی فورسز کو ایک بے مثال اور ہولناک بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ طویل المعیاد جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف اسرائیلی فوج کا گولہ بارود اور جنگی سامان کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے، بلکہ افرادی قوت، معیشت اور فوج کا حوصلہ بھی مکمل طور پر جواب دے چکا ہے۔
عبرانی اخبار ‘ماریو’ کی افشا ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے گزشتہ تین سال سے بھی کم عرصے میں اتنی بڑی مقدار میں گولہ بارود اور عسکری ذخائر جھونک دیے ہیں جو عام حالات میں تین دہائیوں (30 سال) کے استعمال کے برابر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ایئرفورس کی مسلسل پروازوں اور بمباری نے فضائیہ پر عام آپریٹنگ حالات سے 9 گنا زیادہ دباؤ ڈال دیا ہے، جو کہ 9 سالہ سرگرمی کے برابر بنتا ہے۔ اس کے علاوہ، زمینی کارروائیوں میں سخت مزاحمت اور مسلسل سفر کی وجہ سے ٹینکوں اور بکتر بند پرسنل کیریئرز کی حالت ابتر ہو چکی ہے اور اب تک ہزاروں کی تعداد میں جنگی گاڑیوں کے انجن تبدیل کرنا پڑے ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر 53,000 سے زائد ریزرو اہلکاروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ریزروسٹس کی مسلسل اس متحرک صورتِ حال (موبلائزیشن) کے باعث اسرائیلی خزانے کو اربوں شیکل کے سنگین مالیاتی خسارے کا سامنا ہے، جس سے ملک کا عسکری و معاشی نظام بیٹھنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
جنگ کے میدان سے سامنے آنے والے انسانی نقصانات اور نفسیاتی اثرات کے اعداد و شمار انتہائی بھیانک ہیں:
بڑی ہلاکتیں: دیگر خفیہ اور سیکیورٹی اداروں کے علاوہ صرف فوج کے 1,138 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
جسمانی و نفسیاتی معذوری: 11,730 عسکری اہلکار شدید جسمانی زخمی اور شدید نفسیاتی صدمے کے باعث باقاعدہ معذور قرار دیے جا چکے ہیں۔
پیشہ ورانہ بددلی: جنگی میدان کے ہولناک مناظر کے باعث پیشہ ور فوجیوں کا مورال گِر چکا ہے۔ افسران کمانڈ پوزیشنز لینے سے انکار کر رہے ہیں اور پچھلے عہدوں پر منتقل ہو رہے ہیں یا پھر فوج کی ملازمت سے استعفیٰ دے کر راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔
