اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے ریاستی ملکیتی اداروں کی ششماہی کارکردگی رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ میں مالی سال 2025-26 کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران منافع کمانے والے ریاستی ملکیتی اداروں کا مجموعی منافع 423.3 ارب روپے رہا، جو گزشتہ مدت کے 457.2 ارب روپے کے مقابلے میں 7 فیصد کم ہے۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کا مجموعی خسارہ 342.8 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
دستاویز کے مطابق ریاستی ملکیتی اداروں کی ایکویٹی میں 3 فیصد کمی ہوئی اور یہ 6.4 ٹریلین روپے رہ گئی، جبکہ مجموعی اثاثوں میں بھی 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ تقریباً 37.1 ٹریلین روپے رہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق زیر جائزہ مدت کے دوران ریاستی اداروں کو حکومتی مالی معاونت کی مد میں 804 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ ان اداروں کی جانب سے حکومت کو 839 ارب روپے کی مالیاتی ادائیگیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں حکومت کے حق میں تقریباً 35 ارب روپے کا خالص مالیاتی بہاؤ رہا۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں کے مالی معاملات میں اصلاحات اور شفافیت بہتر بنانے کے لیے ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق پالیسی میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔ ترمیم شدہ پالیسی کے تحت سرکاری اداروں کو انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز کے مطابق مالی حساب کتاب رکھنے اور اندرونی آڈٹ کے طریقہ کار اختیار کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ میں سرکاری اداروں کی کارکردگی، مالی نظم و ضبط، گورننس اور حکومتی مالی معاونت پر بھی تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
