واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ریپبلکنز پر برتری حاصل کرلی ہے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان میں کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق 435 رکنی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 133 امیدواروں کو برتری حاصل ہے، جبکہ ریپبلکنز کے 76 امیدوار آگے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہیں۔
امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج میں بھی ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔ ڈیموکریٹس کو 12 نشستوں پر برتری حاصل ہونے کے بعد ان کی مجموعی تعداد 46 ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلکنز 6 نشستوں پر آگے ہیں اور ان کی تعداد 37 تک پہنچ گئی ہے۔ سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 100 میں سے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج تسلیم کریں گے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے دونوں جماعتیں بعض معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرلیں۔
دوسری جانب انتخابات میں تین امریکی خلابازوں نے بھی خلائی اسٹیشن سے الیکٹرانک ووٹ کاسٹ کیا۔ ناسا کے خلاباز انیل، لیوک اور جیسیکا نے اپنا ووٹ ہیوسٹن خلائی مرکز بھیجا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلا میں موجود ہونے کے باوجود ووٹ کا حق استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ان انتخابات میں مسلم امیدوار بھی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ مشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب دوبارہ انتخابی میدان میں ہیں، جہاں ان کا مقابلہ چار امیدواروں سے ہے۔ اسی طرح کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب کا مقابلہ اپنی ہی جماعت کی امیدوار میلیسا ہرنینڈز سے ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ملکی سیاست کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کی آئندہ پالیسیوں اور کانگریس میں حکومتی جماعت کی پوزیشن کے حوالے سے بھی گہری نظر رکھی جارہی ہے۔
