سجاد احمد کی تحریر
جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ پاکستان کی عسکری تاریخ کی ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کا نام فوجی قیادت کے ساتھ 1993ء کے اہم سیاسی بحران کے حل کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے ایسے وقت میں پاک فوج کی کمان سنبھالی جب ملک سیاسی کشمکش کا شکار تھا۔ ان کے دور میں صدر اور وزیراعظم کے درمیان اقتدار کی جنگ اپنے عروج پر پہنچی، جس کے نتیجے میں دونوں اہم عہدے داروں کی رخصتی اور نئے انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔ اس سیاسی سمجھوتے کو بعد ازاں ’’کاکڑ فارمولا‘‘ کے نام سے شہرت ملی۔
جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ 26 اکتوبر 2026ء کو راولپنڈی میں 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر پاک فوج کی قیادت، صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت اہم شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام رینکس نے مرحوم کی عسکری خدمات، قائدانہ صلاحیتوں اور فوج کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کی نمازِ جنازہ راولپنڈی کے آرمی ریس کورس گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔
ابتدائی زندگی اور عسکری تربیت
عبدالوحید کاکڑ 1937ء میں پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتون قبیلے کاکڑ سے تھا، جس کی جڑیں بلوچستان کے ضلع ژوب سے ملتی ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق سردار عبدالرب نشتر سے بھی جوڑا جاتا ہے، جو تحریکِ پاکستان کے نمایاں رہنماؤں میں شامل، گورنر پنجاب اور مسلم لیگ کے صدر رہ چکے تھے۔
کاکڑ نے ایڈورڈز کالج پشاور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1956ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی۔ 18 اکتوبر 1959ء کو انہیں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن ملا۔ یوں ان کے عسکری کیریئر کا آغاز ہوا، جو آگے چل کر انہیں پاک فوج کے اعلیٰ ترین منصب تک لے گیا۔
جنگی تجربہ اور اہم عسکری ذمہ داریاں
جنرل کاکڑ کا عسکری سفر محض دفتری ذمہ داریوں تک محدود نہیں رہا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہوں نے چونڈہ سیکٹر، سیالکوٹ میں رائفل کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1971ء کی جنگ میں وہ بریگیڈ میجر کے طور پر سلیمانکی سیکٹر میں تعینات رہے۔
جنگی تجربے کے بعد انہوں نے پیشہ ورانہ تربیت اور عسکری تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ کینیڈا کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج سے کورس مکمل کیا اور امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔
ان کے کیریئر میں متعدد اہم عہدے شامل رہے۔ وہ ملتان میں II کور کے چیف آف اسٹاف، 16ویں انفنٹری ڈویژن کے کمانڈر اور جنرل ہیڈکوارٹرز میں ایڈجٹنٹ جنرل تعینات رہے۔ 1989ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد کوئٹہ میں XII کور کی کمان بھی ان کے سپرد کی گئی۔
ان کے بارے میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایڈجٹنٹ جنرل کی حیثیت سے انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق کی ہدایت کے باوجود ان طلبہ کو آرمی میڈیکل کالج میں داخلہ دینے سے انکار کر دیا جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ یہ واقعہ ان کی اصول پسندی اور قواعد کی پابندی کی مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
آرمی چیف کی حیثیت سے تقرری
جنرل آصف نواز جنجوعہ کے اچانک انتقال کے بعد 12 جنوری 1993ء کو عبدالوحید کاکڑ نے پاک فوج کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کی تقرری کے وقت بعض سینئر افسران کو نظرانداز کیے جانے کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔
ان کی قیادت کا دور ایسے حالات میں شروع ہوا جب پاکستان کو شدید سیاسی بے یقینی کا سامنا تھا۔ صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان اختلافات بڑھ رہے تھے اور ریاستی اداروں کے درمیان کشمکش سیاسی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی تھی۔
1993ء کا سیاسی بحران اور کاکڑ فارمولا
جنرل عبدالوحید کاکڑ کے کیریئر کا سب سے نمایاں اور متنازع سیاسی باب 1993ء کا آئینی بحران ہے۔
اپریل 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کر دی۔ نواز شریف نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں عدالت نے ان کی حکومت بحال کر دی۔ تاہم، عدالتی فیصلے کے باوجود صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات ختم نہ ہوئے اور اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کرتی گئی۔
صورتحال اس حد تک خراب ہوئی کہ ملک میں سیاسی تصادم کا خطرہ بڑھنے لگا۔ پنجاب اسمبلی کے معاملے پر جاری کشیدگی کے دوران پنجاب پولیس اور رینجرز کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات بھی سامنے آئے۔
جولائی 1993ء میں جنرل کاکڑ نے صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف، دونوں کو مستعفی ہونے پر آمادہ کیا۔ اس پیش رفت کے بعد وسیم سجاد نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں، جبکہ معین قریشی کی سربراہی میں نگران حکومت قائم ہوئی۔ بعد ازاں انتخابات ہوئے اور بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بنیں۔
اس سیاسی سمجھوتے کو ’’کاکڑ فارمولا‘‘ کہا جانے لگا۔ اس واقعے نے جنرل کاکڑ کو محض ایک فوجی سربراہ کے بجائے ملکی سیاست کے ایک اہم فیصلہ کن کردار کے طور پر بھی نمایاں کیا۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ جنرل کاکڑ نے مارشل لا نافذ نہیں کیا اور نہ ہی خود اقتدار سنبھالا۔ تاہم، صدر اور وزیراعظم کو عہدوں سے الگ کرنے میں ان کے کردار نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سیاسی بحرانوں کے حل میں فوج کی مداخلت کی حدود کیا ہونی چاہییں۔ چنانچہ کاکڑ فارمولا ایک طرف سیاسی تعطل ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو دوسری طرف اسے ملکی سیاست میں فوج کے اثرورسوخ کی ایک اہم مثال بھی سمجھا جاتا ہے۔
1995ء کی سازش
جنرل کاکڑ کے دورِ سربراہی میں ستمبر 1995ء میں فوج کے بعض افسران کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ دستیاب تاریخی بیانات کے مطابق میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کی سربراہی میں ایک گروہ نے جنرل کاکڑ اور وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو قتل کرکے اقتدار پر قبضے کا منصوبہ بنایا تھا۔
فوجی خفیہ اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ اس واقعے نے واضح کیا کہ اس دور میں ملک کو صرف سیاسی عدم استحکام ہی نہیں بلکہ ریاستی نظام کے اندر سے پیدا ہونے والے سنگین خطرات کا بھی سامنا تھا۔
توسیع کی پیشکش اور ریٹائرمنٹ
جنرل عبدالوحید کاکڑ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے انکار بھی ہے۔
1996ء میں ان کی تین سالہ مدت مکمل ہونے کے قریب تھی تو صدر فاروق لغاری اور وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جانب سے انہیں مزید تین سال کے لیے آرمی چیف برقرار رکھنے کی پیشکش کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم، کاکڑ نے اپنے کور کمانڈرز سے مشاورت کے بعد اس پیشکش کو قبول نہیں کیا اور مقررہ وقت پر ریٹائر ہو گئے۔
صحافی حامد میر نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کاکڑ نے ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل کی جانے والی توسیع کی پیشکش شائستگی سے مسترد کر دی تھی۔
ایک ایسے ملک میں جہاں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر توسیع اکثر سیاسی اور ادارہ جاتی بحث کا موضوع بنتی رہی ہے، ان کا مقررہ وقت پر عہدہ چھوڑنا ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے نمایاں واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
نظم و ضبط، اصول پسندی اور قیادت
جنرل کاکڑ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صاف گوئی، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی قواعد کی پابندی کو ان کی نمایاں خصوصیات تھی۔ حامد میر نے انہیں عظیم سپاہی اور پاک فوج کا فخر و اثاثہ قرار دیتے ہوئے ان کے دور میں سیاست میں مداخلت کرنے والے فوجی افسران کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔
بعض تحریروں کے مطابق انہوں نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر دو لیفٹیننٹ جنرلوں کو ریٹائر کیا، جن میں ایک حاضر سروس اور ایک سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی شامل تھے۔ ان واقعات کو ان کی قیادت میں احتساب اور فوجی نظم و ضبط کی اہمیت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
ان کے دور میں دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی۔ دستیاب تاریخی معلومات کے مطابق انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سائنس دانوں کے زیرِ تکمیل شاہین میزائل منصوبے کے لیے حکومتی فنڈنگ کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل کاکڑ عوامی اور سیاسی زندگی میں کم ہی دکھائی دیے۔ انہوں نے نسبتاً خاموش زندگی گزاری اور سیاسی مباحث میں مسلسل مداخلت یا نمایاں عوامی کردار سے گریز کیا۔
اعزازات اور عسکری خدمات
جنرل عبدالوحید کاکڑ کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نشانِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا تھا۔ ان کے طویل عسکری کیریئر میں جنگی خدمات، اعلیٰ فوجی کمان، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور قومی سطح کے سیاسی بحران کے دوران کردار شامل ہیں۔
ان کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ فوجی سربراہ کے طور پر ان کے فیصلے صرف عسکری ادارے تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے اثرات ملکی سیاست اور جمہوری عمل پر بھی مرتب ہوئے۔
ایک ایسی میراث جس پر بحث جاری رہے گی
جنرل عبدالوحید کاکڑ کی زندگی اور کیریئر پاکستان کی عسکری و سیاسی تاریخ کے کئی اہم پہلوؤں کو یکجا کرتے ہیں۔ ایک طرف ان کا جنگی تجربہ، پیشہ ورانہ ترقی، نظم و ضبط اور مدتِ ملازمت میں توسیع قبول نہ کرنے کا فیصلہ ہے، تو دوسری طرف 1993ء کا سیاسی بحران ہے، جس میں ان کا کردار ملکی اقتدار کے توازن پر اثرانداز ہوا۔
کاکڑ فارمولا نے اس وقت صدر اور وزیراعظم کے درمیان جاری کشمکش کو ختم کرنے اور نئے انتخابات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اس واقعے نے سیاست میں فوج کے کردار سے متعلق بنیادی سوالات بھی زندہ رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی میراث کو صرف ایک کامیاب فوجی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے سربراہ کے طور پر بھی دیکھا جائے گا جس کے فیصلوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
