محمد ثاقب خان کی خصوصی تحریر
انصاف کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، وہاں عام شہری کو یہ خوف نہیں رہتا کہ کوئی طاقتور شخص اس کا حق چھین لے گا یا محض کمزور ہونے کی وجہ سے اس کی آواز دبا دی جائے گی۔ پاکستان کا آئین بھی ہر شہری کو منصفانہ مقدمے اور قانونی طریقۂ کار کا حق دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 10-A کے مطابق ہر شخص کو اپنے شہری حقوق اور ذمہ داریوں کے تعین یا کسی فوجداری الزام کی صورت میں منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا حق حاصل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک عام پاکستانی کو انصاف کے لیے عدالت، حکومت اور ریاستی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود برسوں انتظار کرنا پڑے تو وہ آخر انصاف کس سے مانگے؟
پاکستان میں انصاف کا مسئلہ صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں۔ لاکھوں عام شہری ایسے ہیں جو برسوں سے اپنے مقدمات کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔ قانون و انصاف کمیشنِ پاکستان کے مطابق جون 2025 کے اختتام پر ملک کی اعلیٰ اور ضلعی عدالتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 22 لاکھ 70 ہزار مقدمات زیرِ التوا تھے۔ یہ اعداد محض ایک انتظامی یا قانونی مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتے ہیں: اگر انصاف میں اتنی تاخیر ہو جائے کہ ایک شہری کی زندگی کا بڑا حصہ مقدمہ لڑتے گزر جائے تو کیا یہ تاخیر خود انصاف سے محرومی کی ایک شکل نہیں؟
پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جنہوں نے معاشرے کے سامنے نظامِ انصاف کی کمزوری اور پیچیدگی کا سوال کھڑا کیا۔ مختاراں مائی کا واقعہ اس کی نمایاں مثال ہے۔ 2002 میں ایک مقامی جرگے کے حکم پر ان کے ساتھ انتہائی سنگین زیادتی کی گئی۔ انہوں نے خاموش رہنے کے بجائے عدالت کا راستہ اختیار کیا اور اپنے لیے انصاف کی جدوجہد شروع کی۔ ان کا مقدمہ مختلف عدالتوں سے گزرتا رہا اور بالآخر سپریم کورٹ کے فیصلے تک پہنچا۔ ان کا طویل قانونی سفر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انصاف حاصل کرنے کی جدوجہد بعض اوقات خود ایک طویل اور کٹھن امتحان بن جاتی ہے۔
اسی طرح نقیب اللہ محسود کا مقدمہ بھی پاکستانی معاشرے میں انصاف کے سوال کی ایک بڑی مثال بن گیا۔ 2018 میں ان کی ہلاکت کے بعد سرکاری تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ شدت پسند نہیں تھے، جبکہ 2023 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سابق پولیس افسر راؤ انوار اور دیگر ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔ ایسے واقعات لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر ایک عام شہری کی زندگی، عزت اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہو تو طاقتور نظام کے سامنے اپنی آواز پہنچانے کے لیے آخر کون سا دروازہ باقی رہ جاتا ہے؟
لاپتہ افراد کے خاندانوں کی کہانیاں بھی اسی سوال کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے معاملات پر برسوں سے عدالتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سرکاری کمیشن کام کرتے رہے ہیں۔ سرکاری اعداد کے مطابق مارچ 2011 سے ستمبر 2025 تک کمیشن کو 10,636 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 8,986 نمٹا دی گئی تھیں، جبکہ 1,650 معاملات زیرِ تفتیش تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں تاہم اس مسئلے پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو محض انتظار نہیں بلکہ سچ، انصاف اور مؤثر ازالے کی ضرورت ہے۔ اس پس منظر میں انصاف کا سوال صرف عدالت کے فیصلے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ریاستی اداروں کی جواب دہی، شفافیت اور شہری کے بنیادی حقوق کا سوال بھی بن جاتا ہے۔
یہی سوال پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں عمران خان کے معاملے پر بھی اٹھایا جا رہا ہے: آخر انصاف کس سے مانگیں؟ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف متعدد مقدمات قائم ہوئے۔ ان کے حامی اور قانونی ٹیم ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ ریاستی مؤقف اور مختلف عدالتی فیصلوں میں ان کے خلاف مختلف قانونی الزامات اور مقدمات کا ذکر موجود ہے۔ رائٹرز کے مطابق عمران خان کو 2022 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سو سے زیادہ قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں بعض مقدمات میں انہیں سزائیں ہوئیں، کچھ سزائیں معطل یا ختم ہوئیں، جبکہ بعض معاملات میں وہ بری بھی ہوئے۔
ایک ذمہ دار شہری کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ ہر الزام کو حقیقت سمجھے اور نہ ہر عدالتی فیصلے کو بغیر سوال کے حتمی سچ مانے۔ اصل اصول یہ ہونا چاہیے کہ ہر مقدمے میں شفاف کارروائی، مناسب قانونی نمائندگی، غیر جانب دار عدالت، ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ اور اپیل کا مؤثر حق موجود ہو۔ انصاف کا معیار کسی شخص کی مقبولیت، سیاسی وابستگی یا حکومتی حیثیت نہیں بلکہ قانون ہونا چاہیے۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ انصاف کا مطلب صرف کسی شخص کو بری کروانا نہیں، بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کروانا ہے۔ اگر عمران خان کسی مقدمے میں قصوروار ہیں تو انہیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، لیکن اگر کسی مقدمے میں ان کے بنیادی قانونی حقوق متاثر ہوئے ہیں تو انہیں بھی آئین کے مطابق وہی تحفظ ملنا چاہیے جو ہر شہری کا حق ہے۔ یہی اصول ان کے سیاسی مخالفین، عام شہریوں، صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور معاشرے کے ہر دوسرے فرد کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں بھی پاکستان میں سیاسی مخالفین، صحافیوں اور سول سوسائٹی پر دباؤ اور شہری آزادیوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
18 اگست 2026 کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے انہیں جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور خاندان سے ملاقاتوں کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔ حکومت نے بعد ازاں اس حکم میں نظرِ ثانی یا ترمیم کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ معاملہ اس بنیادی اصول کی یاد دہانی بھی ہے کہ عدالت کا کردار کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کھڑا ہونا نہیں بلکہ قانون اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
تو پھر آخر انصاف کس سے مانگیں؟
شاید اس سوال کا جواب یہ ہے کہ انصاف کسی فرد، جماعت، حکومت یا طاقتور ادارے سے نہیں بلکہ آئین، قانون اور ایک آزاد و غیر جانب دار نظامِ انصاف سے مانگنا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ عدالتیں سیاسی دباؤ سے آزاد ہوں، حکومت قانون کی پابندی کرے، طاقتور ادارے بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہوں اور عام شہری کو بھی وہی قانونی تحفظ حاصل ہو جو کسی بڑے سیاسی رہنما کو حاصل ہے۔
اگر انصاف صرف طاقتور کے لیے ہو تو وہ انصاف نہیں بلکہ طاقت کا نام ہے؛ اور اگر قانون صرف کمزور کے لیے ہو تو قانون کی روح ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ریاست کی اصل طاقت اس بات میں نہیں کہ وہ اپنے شہری کو کتنا دباؤ میں لا سکتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے شہری کو کتنا محفوظ، بااختیار اور پُراعتماد بنا سکتی ہے۔
پاکستان کو آج کسی ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے لیے انصاف کی ضرورت ہے۔ عمران خان کے لیے بھی، ان کے مخالفین کے لیے بھی، نقیب اللہ محسود جیسے متاثرین کے خاندانوں کے لیے بھی، لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے لیے بھی اور اس عام پاکستانی کے لیے بھی جو برسوں سے عدالت کے باہر اپنے مقدمے کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔
اصل کامیابی تب ہوگی جب پاکستانی شہری یہ سوال پوچھنے پر مجبور نہ ہو کہ "آخر انصاف کس سے مانگیں؟” بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکے:
"انصاف ہمیں قانون دے گا، اور قانون سب کے لیے برابر ہے۔”
