کابل (پاک ٹوڈے): افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا ہے کہ نورستان کے ضلع کامدیش میں ڈیورنڈ لائن عبور کرکے آنے والے مسلح عناصر کے خلاف افغان سکیورٹی اور دفاعی فورسز کا آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع کے مطابق کارروائی ان عناصر کے خلاف کی گئی جو ڈیورنڈ لائن عبور کرکے نورستان میں داخل ہوئے تھے اور علاقے میں تخریبی سرگرمیوں کی کوشش کر رہے تھے۔ افغان حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ان کی پیش قدمی روک دی اور آپریشن اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد مکمل کرلیا۔
اس سے قبل افغان وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ کامدیش کی سمت آنے والے مسلح گروہوں میں داعش سے وابستہ عناصر بھی شامل تھے۔ افغان حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 28 افراد ہلاک اور 32 گرفتار کیے گئے تھے۔
افغان وزارتِ خارجہ نے 29 ستمبر کو کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کرکے نورستان کی جانب ڈیورنڈ لائن عبور کرنے والے مسلح عناصر کے معاملے پر احتجاجی مراسلہ بھی حوالے کیا۔ افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ عناصر پاکستانی فوجی حکام کی مدد اور رہنمائی میں افغانستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
افغان حکام نے پاکستان پر مسلح عناصر کی بھرتی، تربیت اور سرحد پار بھیجنے کے لیے سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے نورستان کے واقعے میں ملوث ہونے یا مسلح عناصر کی معاونت کے افغان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاکستان کا نورستان یا افغانستان میں ہونے والی کسی اندرونی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔
