پشاور (پاک ٹوڈے): 55 سال کی عمر میں جب اکثر کھلاڑی کھیل کے میدان سے دور ہو جاتے ہیں، لاہور سے تعلق رکھنے والی نوشین اسلم نے جاپان کے شہر ناگویا میں جاری ایشین گیمز 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کرکے نئی مثال قائم کردی۔
نوشین اسلم خواتین کے ٹیبل ٹینس ٹیم ایونٹ میں شریک عمر رسیدہ کھلاڑیوں میں شامل رہیں۔ یہ ان کا پہلا ایشین گیمز تھا جبکہ بیرون ملک یہ ان کا پہلا بین الاقوامی ایونٹ بھی ہے۔ انہوں نے تقریباً 12 سال قبل ٹیبل ٹینس کا سفر شروع کیا، اس وقت وہ تین بیٹوں کی والدہ تھیں۔
پاکستانی ٹیم نے گروپ مرحلے میں سنگاپور، انڈونیشیا اور بھارت کے خلاف مقابلے کھیلے۔ نوشین نے سنگاپور اور انڈونیشیا کے خلاف میچز میں حصہ لیا، جہاں انڈونیشیا کی نی مہارانی کے خلاف انہیں 0،3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی ٹیم میں ان کے ساتھ 15 سالہ علینہ خان بھی شامل تھیں۔
نوشین اسلم کے مطابق ٹیبل ٹینس مہارت کا کھیل ہے جس میں عمر رکاوٹ نہیں بنتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کھیل نے انہیں فٹ اور فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کے بعد وہ رات کے وقت پریکٹس کرتی رہیں، جبکہ ان کے شوہر اور بچوں نے بھی اس سفر میں بھرپور تعاون کیا۔
نوشین نے ایشین گیمز کے بعد بھی کھیل جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا اگلا ہدف اپریل 2027 میں پاکستان میں شیڈول ساؤتھ ایشین گیمز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مزید 2 سے 3 سال تک ٹیبل ٹینس کھیلنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔