پشاور (پاک ٹوڈے): انٹرنیٹ پر کسی بھی معلومات کی تلاش کی بات ہو تو سب سے پہلے گوگل کا نام ذہن میں آتا ہے۔ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے اس سرچ انجن کی جانب سے 27 ستمبر کو 28ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گوگل ماضی میں اپنی سالگرہ مختلف تاریخوں پر مناتا رہا ہے۔ کمپنی نے 2013 میں ایک بلاگ پوسٹ میں اعتراف کیا تھا کہ اسے خود بھی اپنی سالگرہ کی حتمی تاریخ کا علم نہیں۔ کمپنی کے مطابق 7، 8 اور 26 ستمبر کو بھی سالگرہ منائی جا چکی ہے، تاہم اب 27 ستمبر کو ہی گوگل کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔
28ویں سالگرہ کے موقع پر گوگل نے خصوصی ڈوڈل بھی جاری کیا ہے، جس میں کمپنی کے ماضی کے لوگوز کو اجاگر کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل کا پہلا ڈوڈل 30 اگست 1998 کو سامنے آیا تھا، جبکہ عام صارفین کے لیے گوگل تک رسائی 4 ستمبر 1998 سے شروع ہوئی۔
گوگل کی بنیاد لیری پیج اور سرگئی برن نے رکھی اور کمپنی کا ابتدائی دفتر ایک گیراج میں قائم کیا گیا تھا۔
گوگل سے متعلق چند دلچسپ حقائق یہ ہیں۔
دنیا بھر میں ہر سیکنڈ تقریباً 99 ہزار سرچز گوگل پر کی جاتی ہیں جبکہ ایک دن میں سرچز کی تعداد تقریباً ساڑھے 8 ارب تک پہنچ جاتی ہے۔
گوگل کے آغاز سے اب تک 5 ہزار سے زائد ڈوڈلز تیار کیے جا چکے ہیں، جن کے لیے کمپنی میں ایک مخصوص ٹیم بھی کام کرتی ہے۔
گوگل کا موجودہ نام ابتدا سے ایسا نہیں تھا۔ لیری پیج اور سرگئی برن نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک منصوبے کے دوران اسے پہلے ’’بیک رب‘‘ کا نام دیا تھا، بعد میں اس کا نام گوگل رکھا گیا۔
گوگل امیجز کے آغاز کے پیچھے بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ 2000 میں ایک ایوارڈ تقریب کے دوران جینیفر لوپیز کا لباس گوگل پر انتہائی زیادہ سرچ کیا گیا۔ صارفین اس لباس کی تصاویر دیکھنا چاہتے تھے، جس کے بعد 2001 میں گوگل امیجز متعارف کرایا گیا۔
26 جون 2000 کو گوگل نے پہلی مرتبہ ایک ارب سرچز کا سنگ میل عبور کیا، جس کے بعد یہ دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن کے طور پر نمایاں ہوا۔
2006 میں آکسفورڈ انگلش ڈکشنری اور میریئم ویب سٹر ڈکشنری نے ’’گوگل‘‘ کو بطور فعل شامل کیا، جس کا مطلب ورلڈ وائڈ ویب پر سرچ کرنا ہے۔
جی میل یکم اپریل 2004 کو متعارف کرائی گئی۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے اسے اپریل فول کا مذاق سمجھا، کیونکہ گوگل ایک جی بی مفت اسٹوریج فراہم کر رہا تھا۔
16 اگست 2013 کو تکنیکی مسائل کے باعث گوگل کی مختلف سروسز تقریباً 5 منٹ تک متاثر رہیں۔ اس دوران عالمی انٹرنیٹ ٹریفک میں تقریباً 40 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔
گوگل کا نام ریاضی کی اصطلاح ’’گوگول‘‘ سے ماخوذ ہے، جس میں ایک کے ساتھ 100 صفر لگائے جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں روزانہ ہونے والی تقریباً ساڑھے 8 ارب سرچز میں سے لگ بھگ 15 فیصد سرچز ایسی ہوتی ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی گئی ہوتیں۔
گوگل کی کم از کم 9 سروسز ایسی ہیں جنہیں ہر ماہ ایک ارب سے زائد افراد استعمال کرتے ہیں۔
گوگل ٹرانسلیٹ 2006 میں متعارف ہوا اور ایک اندازے کے مطابق روزانہ 100 سے زائد زبانوں کے تقریباً 143 ارب الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔
گوگل سرچ کا آٹو کمپلیٹ فیچر صارفین کو سرچ مکمل کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کے باعث ٹائپنگ میں اوسطاً 25 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔
گوگل سرچ میں کئی دلچسپ گیمز اور پوشیدہ ٹرکس بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ’’askew‘‘ سرچ کرنے سے سرچ پیج ہلکا سا ایک جانب جھک جاتا ہے، جبکہ ’’Google Gravity‘‘ سرچ کرنے پر سرچ انجن کے عناصر اسکرین کے نچلے حصے کی طرف گرنے لگتے ہیں۔
گوگل کے بٹن کے ذریعے صارفین براہ راست مقبول سرچ نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس فیچر کی وجہ سے کمپنی کو اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ ضائع ہونے کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے، تاہم اسے گوگل سرچ کا حصہ برقرار رکھا گیا ہے۔
گوگل پر ایک سرچ بظاہر انتہائی آسان عمل محسوس ہوتا ہے، لیکن ہر سرچ کے لیے بڑی مقدار میں کمپیوٹنگ پاور اور دیگر وسائل درکار ہوتے ہیں۔