یمن (پاک ٹوڈے): یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف محاذوں پر حوثی اہداف کے خلاف 414 حملے کیے گئے۔
فوجی ترجمان ماجد النزیلی نے سرکاری سبا نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کی کمک اور فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا تھا۔ ان کے مطابق حملوں میں حوثی جنگجوؤں اور فوجی سازوسامان کو نقصان پہنچا، تاہم جانی نقصان سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
حوثیوں کی جانب سے یمنی فوج کے ان دعوؤں پر تاحال کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اس سے ایک روز قبل یمنی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ حکومتی افواج نے 10 محاذوں پر حوثی اہداف کے خلاف 356 کارروائیاں کیں، جن میں حوثی گروپ کے 476 ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے۔
یمن 2014 سے تنازع کا شکار ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء سمیت کئی صوبوں پر قبضہ کیا تھا۔ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔
ستمبر میں لڑائی میں شدت آنے کے دوران حوثیوں نے الحدیدہ اور تعز صوبوں کے کئی اہم علاقوں، بشمول اسٹریٹجک شہر مخا، پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ باب المندب آبنائے کے قریب مایون جزیرے تک بھی پیش قدمی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دریں اثنا ایران نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے بعد خطے میں اسرائیل کی موجودگی کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے نیتن یاہو کے دورے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ایران پر اسرائیلی حملوں اور فلسطین و لبنان میں جاری جنگ کے دوران ہوا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق خطے میں اسرائیل کی موجودگی ایک خطرناک صورتحال پیدا کر رہی ہے، جبکہ علاقائی ممالک کو اجتماعی امن اور سلامتی کو درپیش خطرات کے حوالے سے چوکس رہنا چاہیے۔