ڈیرہ بگٹی میں سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ، 4 اہلکار اور ڈرائیور ہلاک

ڈیرہ بگٹی (پاک ٹوڈے): ضلع ڈیرہ بگٹی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔

سرکاری حکام کے مطابق سیکیورٹی اہلکار سوئی سے سندھ کے شہر کشمور جا رہے تھے کہ پیر کے روز پیر عنایت شاہ دربار کے قریب ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اہلکار ایک نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے، جس پر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی۔ حملے میں گاڑی کا ڈرائیور بھی ہلاک ہوگیا جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ ضلع ڈیرہ بگٹی کے شمالی علاقے لوٹی میں 2 روز قبل ہونے والی جھڑپوں کے بعد پیش آیا۔ سرکاری حکام اور مقامی قبائلی عمائدین کے مطابق لوٹی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک نجی گیس کمپنی کے کیمپ اور ڈسٹرکٹ کونسل ڈیرہ بگٹی کے چیئرمین وڈیرہ غلام نبی شمبانی کے گھر کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امن فورس کے رضاکاروں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔

کوئٹہ میں ایک سینیئر پولیس اہلکار کے مطابق جوابی کارروائی میں 8 حملہ آور ہلاک ہوئے، جبکہ امن فورس کا ایک رضاکار بھی ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے سکھر منتقل کیا گیا۔

وڈیرہ غلام نبی شمبانی نے بتایا کہ حملہ آوروں نے براہ راست ان کے گھر کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق رات اور اگلی صبح ہونے والی جھڑپوں کے دوران حملہ آوروں کا تعاقب کیا گیا، جس میں 8 افراد ہلاک اور 7 کو گرفتار کیا گیا۔

لوٹی حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی نے قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے میڈیا کو جاری بیان میں اپنے 6 جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

دریں اثنا ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر واقع مدینہ ہوٹل کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ہوٹل مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

Related posts

ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع، 15 اکتوبر مقرر

کے پی میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ غیر جمہوری عمل ہوگا، ایمل ولی خان

افغان شہریوں کے منسوخ شناختی کارڈ بحال کرنے کی کوشش، نادرا افسر گرفتار