پشاور (پاک ٹوڈے): پشاور ہائیکورٹ نے 16 سال سے نیا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ جاری نہ ہونے کے معاملے پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کو طلب کرلیا۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کی رٹ پر سماعت کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس لیے این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی ضروری ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ وفاق میں درخواست گزار کی جماعت کی حکومت کے دوران صوبے کو نیا حصہ کیوں نہیں دیا گیا۔ وکیل نے جواب دیا کہ وفاق میں حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، فاٹا کو اس کا حصہ نہیں دیا جاتا۔ وکیل کے مطابق قانون کے تحت ہر 5 سال سے پہلے نیا این ایف سی ایوارڈ ہونا چاہیے۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک رپورٹ جمع کرائی گئی ہے، جس کے مطابق فاٹا کے لیے 27 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا مقصد فنڈز کی یکساں تقسیم اور ترقی کا عمل یقینی بنانا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے علاوہ قبائلی اضلاع کے لیے 2023 سے 115 ارب روپے کے الگ فنڈز واجب الادا تھے، جبکہ اب یہ رقم مزید بڑھ چکی ہے۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بلال احمد درانی نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ صرف وفاقی حکومت کا معاملہ نہیں بلکہ اس میں تمام صوبوں کے وزرائے خزانہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ آخری این ایف سی ایوارڈ 2010 میں ہوا تھا۔
عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 نومبر تک ملتوی کردی۔