اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل رکھنا سرحد پار پانی کے معاہدوں کے لیے خطرناک نظیر بن سکتا ہے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اگر کوئی ریاست قائم شدہ تنازع حل کرنے کے طریقہ کار کے باوجود کسی بین الاقوامی پانی کے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرسکتی ہے تو اس کے اثرات دنیا بھر میں سرحد پار پانی کے انتظامات پر پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن ملک ہے، تاہم بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان کے مطابق پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا بنیادی حق ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر عالمی برادری سے رابطے جاری رکھے گا اور اپنے اہم قومی مفادات کا دفاع کرے گا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر بدستور نافذ ہے۔ یکم ستمبر 2026 کو مستقل ثالثی عدالت نے بھی معاہدے کو برقرار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کے پاس اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کی بنیاد نہیں ہے، جبکہ بھارت اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔