گورنر کا اجلاس آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے، کسی کو شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے، سہیل آفریدی

پشاور (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گورنر کی جانب سے گزشتہ روز چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کو طلب کرکے اجلاس منعقد کرنے کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے اور صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال ہیں۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گورنر کی جانب سے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو بلا کر اجلاس منعقد کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ دو تہائی اکثریت رکھنے والی صوبائی حکومت کی موجودگی میں اس نوعیت کا اجلاس قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کی آئینی حیثیت کے بارے میں ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے اور اس کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لانا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے اور گورنر کی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلا کر ردعمل پر مجبور کرنا ہے۔

سہیل آفریدی نے پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ماضی میں بھی غلط کردار ادا کر چکی ہے اور موجودہ اقدامات سے انہیں ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔ ان کے بقول ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وتیرہ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کو توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشت گردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان اور ان کی حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کا ساتھ دیا، جبکہ 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد سے پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے پاس ملک میں موجود کسی بھی پولیس کے مقابلے میں جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں، جبکہ سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا خیبرپختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے۔ ان کے مطابق 2018 میں قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا، تاہم آج تک انہیں مالی طور پر مکمل طور پر صوبے میں ضم نہیں کیا گیا اور ان کے طے شدہ مالی حقوق بھی ادا نہیں کیے جا رہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ 2024 سے اب تک وفاقی حکومت مسلسل خیبرپختونخوا پر ملٹری آپریشنز مسلط کرتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لوگوں کو مکمل معاوضہ نہیں ملا۔ ان کے بقول قبائلی اضلاع کے متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے گھر اجڑے، خاندان متاثر ہوئے اور مساجد کو نقصان پہنچا، وہ آج بھی معاوضوں کے لیے دربدر ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے قبائلی خاندانوں کے لیے فی گھر صرف 4 لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا، جبکہ بکا خیل کیمپ میں شمالی وزیرستان کے متاثرین کو ماہانہ 37 سے 38 کروڑ روپے فراہم کرنے کی کمٹمنٹ کی گئی تھی، تاہم یہ رقم آج تک وعدے کے مطابق فراہم نہیں کی جا رہی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک بے گھر افراد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت کو پوری کرنا پڑتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ مخلص ہے تو صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کرے اور صوبے کے واجبات ادا کرے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے ساتھ وفاقی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا بھی صوبے کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ ہیں اور پولیس کو ذاتی کاموں کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 22 سال کے دوران 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے ملٹری آپریشنز کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق اس عرصے میں 80 ہزار جانوں کی قربانی کے باوجود امن کا مسئلہ برقرار رہنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت سنجیدہ ہے تو دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ ان کے مطابق وفاق کی موجودہ پالیسی نہ خیبرپختونخوا میں مؤثر ہے اور نہ بلوچستان میں، جبکہ بلوچستان حکومت کے وفاق کے ساتھ تعاون کے باوجود وہاں بھی امن قائم نہیں ہو سکا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اشتعال دلانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم وہ پرامن رہیں گے اور صرف آئین و قانون کی بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں اور انہیں پوری عمر غیر آئینی و غیر قانونی کام نہ کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔

سہیل آفریدی نے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور سخت حالات میں صوبے کو گولہ بارود اور خودکش دھماکوں سے نکال کر امن کی طرف لے جانے میں کردار ادا کیا۔

وزیراعلیٰ نے ساؤتھ وزیرستان اور اپر وزیرستان میں پولیس کی مبینہ فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس نے کسی کے ذاتی مفاد کے لیے فائرنگ کی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے لاچی کے ایس ایچ او کے خلاف بھی فوری انکوائری کا مطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ مذکورہ افسر نے لوگوں سے بندوق کی نوک پر پیسے وصول کیے۔ وزیراعلیٰ نے ایس ایچ او کو عہدے سے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کو اٹھایا گیا، وزیرستان میں صوبائی حکومت کے کارکنوں کو زخمی کیا گیا اور شکیل خان پر براہ راست فائرنگ کی گئی۔ ان کے مطابق یہ اقدامات صوبائی حکومت کو اشتعال دلانے اور ایسا ردعمل دینے پر مجبور کرنے کی کوشش ہیں جس سے حالات مزید خراب ہوں۔

Related posts

مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں موجودگی کی تصدیق

پشاور کے مختلف علاقوں میں موبائل سروس معطل

پاکستان کی بہتری کے لیے سیاسی راستہ نکالا جا رہا ہے، ایاز صادق