واشنگٹن (پاک ٹوڈے): عالمی بینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدن والے غریب افراد میں سے 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ، شدید مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور روزگار کے مواقع میں کمی نے پاکستان میں غربت میں اضافہ کیا۔ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدن والے افراد کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
عالمی بینک کے مطابق کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب اور معاشی بحران نے بھی پاکستانی گھرانوں کو شدید متاثر کیا اور لوگوں کی حقیقی آمدن میں کمی ہوئی۔ خطے کے باقی غریب افراد کی بڑی تعداد افغانستان، شام اور یمن میں رہتی ہے، جبکہ یہ تینوں ممالک مجموعی طور پر یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدن والے غریب افراد کا 47 فیصد رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، جبوتی، شام اور یمن میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدن والے افراد کی شرح تقریباً 20 فیصد یا اس سے زیادہ ہو چکی ہے۔
عالمی بینک نے رواں مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی معاشی نمو 3.8 فیصد اور مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔ آبادی میں اضافے کو مدنظر رکھنے کے بعد فی کس حقیقی معاشی نمو 2.2 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے 0.8 فیصد اور بجٹ خسارہ 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
عالمی بینک نے مشرقِ وسطیٰ کی جاری جنگ کے باعث پاکستان کو درپیش معاشی خطرات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے، مالی گنجائش میں کمی، خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں کمی اور قرض کی لاگت بڑھنے کے خطرات موجود ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کے نجی شعبے میں جدت کی کم سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق صرف ایک فیصد پاکستانی کمپنیوں نے اپنے کاروباری طریقہ کار میں بہتری کی اطلاع دی، جبکہ اسی نوعیت کے ممالک میں یہ شرح اوسطاً 14 فیصد ہے۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں اے آئی کے استعمال کے سب سے زیادہ درج شدہ حوالے پاکستان میں ہیں، تاہم اس کا استعمال زیادہ تر فن، میڈیا، تصویر سازی، مواد نویسی اور ترجمے جیسے شعبوں تک محدود ہے۔
عالمی بینک کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران پاکستان، بحرین، لبنان اور سعودی عرب میں ڈیجیٹل مہارتوں کی ضرورت والی ملازمتوں کے اشتہارات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تاہم پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی محدود دستیابی اور بجلی کے مسائل مصنوعی ذہانت کے وسیع استعمال میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔