اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ریاست کو یرغمال بنا کر اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرکے حکومت سے مطالبات نہیں منوائے جا سکتے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کو سیاسی مطالبات منوانے کے لیے دباؤ کے ذریعے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی، تاہم بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے گزشتہ روز کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور احتجاج کا منصوبہ ترک کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے میں کامیاب رہی ہے اور سیاست کو ایک دوسرے پر ذاتی حملوں اور عدم برداشت کے کلچر میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے 2022 اور 2024 میں اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کا بھی حوالہ دیا۔
وزیراعظم کے مشیر نے حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں بچے، عام شہری اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے فوجی جوان بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف جاں بحق افراد کی میتیں پڑی تھیں جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت اسلام آباد کی جانب احتجاج کے لیے لوگوں کو متحرک کر رہی تھی۔
رانا ثنا اللہ نے خیبرپختونخوا حکومت کے طرزِ عمل کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کی جانب سے بھی اس رویے پر تنقید کی گئی ہے۔