کابل (پاک ٹوڈے): افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق سربراہ اور افغان نژاد امریکی شہری محمود شاہ حبیبی کی کابل سے پراسرار گمشدگی کو چار سال مکمل ہو گئے ہیں، جبکہ امریکی حکام نے ان کی بازیابی اور معلومات کی فراہمی پر 50 لاکھ ڈالر تک کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محمود شاہ حبیبی کو اگست 2022 میں کابل سے ان کے ڈرائیور سمیت لاپتہ ہوگئے تھے، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کا موقف ہے کہ انہیں طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے حراست میں لیا تھا، تاہم امارت اسلامی افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک تازہ بیان میں حبیبی کی گرفتاری سے لاتعلقی ظاہر کر دی ہے، مجاہد کے مطابق اگر وہ افغان حکومت ان کی گرفتاری میں ملوث ہوتی تو اسے ظاہر کرتی اور مجرم ہونے کی صورت میں انہیں عدالتوں سے سزا دلواتی کیونکہ افغانستان میں ایک مضبوط اسلامی نظام اور حکومت قائم ہے۔
محمود شاہ حبیبی کے لاپتہ ہونے کے وقت تک کابل میں ‘ایشیا کنسلٹنسی گروپ’ نامی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی سے بطور مشیر منسلک تھے، جبکہ اس سے قبل وہ افغان سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی ذمہ داریاں سرانجام دے چکے ہیں
۔
امریکی محکمہ خارجہ اور ایف بی آئی کی جانب سے ان کی محفوظ واپسی اور پتہ بتانے والے کے لیے بھاری رقم کے انعام کی پیشکش کے باوجود اب تک ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا ہے