یمن: تعز میں فضائی حملے، درجنوں حوثی جنگجوؤں اور شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ

تعز (پاک ٹوڈے): یمن کے صوبہ تعز میں ہونے والے متعدد فضائی حملوں کے نتیجے میں تقریباً 30 حوثی جنگجوؤں اور 8 شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

حوثی گروپ سے وابستہ متعدد ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو تعز کے علاقے میں ہونے والے فضائی حملوں میں تقریباً 30 جنگجو اور 8 شہری ہلاک ہوئے۔

حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا کہ ایک فضائی حملے میں 7 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے، جبکہ حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک بازار کو نشانہ بنایا گیا۔ بعدازاں چینل نے حوثیوں کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا کہ زخمیوں میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔

حوثیوں کی وزارت صحت کے مطابق حملے میں تعز صوبے کے مویہ چوراہے پر واقع ایک بازار اور متعدد دکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز نے اسی علاقے میں حوثیوں کے ایک فوجی کیمپ اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر تعز کے مضافات میں ایک بازار کو نشانہ بنانے والے 2 فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حملوں سے تقریباً 50 افراد متاثر ہوئے، جن میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد شامل ہیں۔ انہوں نے حملے کا جواب دینے کا بھی اعلان کیا۔

دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے دعویٰ کیا کہ مسلح افواج نے 72 گھنٹوں کے دوران 756 کارروائیاں کیں، جن میں حوثیوں کے 2,316 جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان میں 4 ایرانی شہری بھی شامل تھے۔

Related posts

افغانستان کے لیے بھارت کی انسانی امداد جاری، ادویات اور طبی سامان کی ایک اور کھیپ کابل پہنچ گئی

قازقستان میں بحری مشق کے دوران 14 فوجی ہلاک، 5 افسران زیرحراست

ایران پر امریکی معاشی دباؤ تہران کو نقصان پہنچا رہا ہے، امریکی وزیر خزانہ