واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکا میں ایک افغان شہری محمد شریف اللہ کو داعش خراسان کی معاونت اور شدت پسند تنظیم کو مادی مدد فراہم کرنے کی سازش کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محمد شریف اللہ کو رواں سال اپریل میں ورجینیا کی وفاقی جیوری نے داعش کو معاونت فراہم کرنے کی سازش کا مجرم قرار دیا تھا۔
استغاثہ نے شریف اللہ کو 26 اگست 2021 کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے سے بھی جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ اس حملے میں کم از کم 170 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے، تاہم جیوری شریف اللہ کے حملے میں براہِ راست ملوث ہونے کے الزام پر متفق نہ ہوسکی اور اس معاملے پر فیصلہ تعطل کا شکار رہا۔
امریکی استغاثہ کے مطابق طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے چند روز بعد شریف اللہ نے کابل ایئرپورٹ کے اس راستے کی مبینہ طور پر ریکی کی تھی جہاں بعد ازاں خودکش حملہ آور نے ہجوم کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔
شریف اللہ کو مارچ 2025 میں پاکستان سے امریکا کے حوالے کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف امریکی ریاست ورجینیا میں مقدمہ چلایا گیا۔
امریکی حکام نے شریف اللہ پر داعش خراسان سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے اور مختلف کارروائیوں میں معاونت کا الزام عائد کیا۔ ان پر جون 2016 میں کابل میں ایک خودکش حملہ آور کو ہدف تک پہنچانے کا بھی الزام تھا، جبکہ مارچ 2024 میں ماسکو کے قریب کروکس سٹی ہال حملے میں ملوث مبینہ داعش خراسان کے جنگجوؤں کو ہتھیار چلانے کی تربیت دینے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق شریف اللہ داعش خراسان سے 2016 سے وابستہ رہے ہیں۔ تاہم کابل ایئرپورٹ حملے میں ان کے براہِ راست کردار سے متعلق جیوری کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی