ایران جنگ: امریکا کے اخراجات 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، مزید 3 ارب ڈالر ماہانہ خرچ کا امکان

واشنگٹن (پاک ٹوڈے) ایران کے ساتھ جاری جنگ پر امریکا کے اخراجات چھ ماہ کے دوران تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) کے مطابق جنگ جاری رہنے کی صورت میں امریکی اخراجات میں ہر ماہ تقریباً 3 ارب ڈالر مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق کانگریشنل بجٹ آفس نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر گولہ بارود اور دیگر فوجی سازوسامان کے استعمال نے امریکی عسکری ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ میں امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض اہم ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض نظاموں کے لیے یہ مدت تقریباً پانچ سال تک بتائی گئی ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے امریکی فوج کے پاس گولہ بارود کی کمی سے متعلق دعووں کو مسترد کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کا مؤقف ہے کہ فوج کے پاس موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ مقدار میں گولہ بارود اور فوجی وسائل دستیاب ہیں۔

سی بی او کے تخمینے کے مطابق جنگ کے اخراجات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی دوبارہ خریداری بھی شامل ہے۔ دوسری جانب امریکی دفاعی حکام نے جنگ کے دوران اسلحہ ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کے باوجود فوج کی آپریشنل صلاحیت برقرار رہنے پر زور دیا ہے۔

 

Related posts

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات میں ابتدائی پیش رفت، آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی بات چیت

امریکا کا 150 سے زائد افغان پناہ گزینوں کو پاکستان کے راستے افغانستان ڈی پورٹ کرنے کا منصوبہ

امریکا کی یوکرین کو 2.1 ارب ڈالر کے 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی