اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ اسلام آباد مارچ پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار مقابلہ حتمی اور فیصلہ کن ہوگا، جس کے بعد پی ٹی آئی کو دوبارہ کبھی وفاقی دارالحکومت کی جانب رخ کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نیویارک میں موجود وزیر دفاع نے ایک انٹرویو کے دوران پی ٹی آئی قیادت کے حالیہ بیانات پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما اسلام آباد کو ’سومنات کے مندر‘ سے تشبیہ دے کر ملک کے دارالحکومت پر حملے کی باتیں کر رہے ہیں، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام آباد ایک ایٹمی اور اہم اسلامی ریاست کا دارالخلافہ ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے دارالحکومت کا امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی تو یہ ان کی آخری کوشش ثابت ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کے لوگ اسلام آباد آئیں ہی نہ، اور یہ بھی ایک فیصلہ کن صورت حال ہوگی کیونکہ اب ملک مزید کسی قسم کے سیاسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کی کال دی گئی ہے، جس کے جواب میں وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی صورت احتجاجیوں کو دارالحکومت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر اور دیگر صوبائی رہنماؤں نے حکومت کو شدید نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے اسلام آباد کو ’سومنات‘ بنانے کے متنازع بیانات دیے تھے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی سابق مرکزی رہنما فوزیہ قصوری نے بھی پارٹی کی احتجاجی حکمتِ عملی اور بیانات کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے نام پر دارالحکومت پر حملہ آور ہونے کی باتیں کرنے والے پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔
فوزیہ قصوری کا کہنا تھا کہ نظریاتی اختلافات کی آڑ میں ریاست اور پاک افواج کے خلاف پروپیگنڈا کرنا دشمنوں کا طریقہ کار ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ اگر وہ واقعی سنجیدہ ہیں تو خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت کے ذریعے عوام دوست پالیسیاں لا کر اپنی کارکردگی ثابت کریں۔
