اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے اسلام آباد میں لگائے گئے 1550 کنٹینرز کے مالکان کو روزانہ 4 کروڑ 65 لاکھ روپے کرایہ ادا کیا جائے گا، جبکہ احتجاج ایک ہفتہ مؤخر ہونے کے باعث سرکاری خزانے پر مجموعی لاگت ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دارالحکومت پولیس نے سیکیورٹی انتظامات کے لیے تقریباً 82 کروڑ روپے کے اخراجات کی درخواست کی تھی، جس میں کنٹینرز کے کرائے کے علاوہ پنجاب اور سندھ سے آنے والے پولیس اہلکاروں کے قیام و طعام کے اخراجات بھی شامل تھے۔
یہ رقم ایک ہفتے کے لیے مختص کی گئی تھی کیونکہ پولیس کو توقع تھی کہ 27 ستمبر سے شروع ہونے والا احتجاج اور لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ختم ہوجائے گا۔ تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج ایک ہفتہ مؤخر کیے جانے کے بعد سیکیورٹی انتظامات پر مزید اخراجات کا خدشہ ہے۔
آل پاکستان گڈز الائنس کے چیئرمین نثار حسین جعفری کے مطابق ابتدا میں 40 فٹ کنٹینر کا یومیہ کرایہ 40 ہزار جبکہ 20 فٹ کنٹینر کا 20 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز تھی، تاہم بعد میں دونوں سائز کے کنٹینرز کا کرایہ 30 ہزار روپے یومیہ طے پایا۔
ذرائع کے مطابق 1550 کنٹینرز کا یومیہ کرایہ 4 کروڑ 65 لاکھ روپے بنتا ہے، جبکہ ایک ہفتے کا کرایہ 32 کروڑ 55 لاکھ اور دو ہفتوں کا 65 کروڑ 10 لاکھ روپے ہوگا۔
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مؤخر ہونے کے بعد کنٹینرز کے حوالے سے پولیس کی جانب سے تاحال فیصلہ نہیں کیا گیا کہ انہیں واپس کیا جائے گا یا مزید دنوں کے لیے اپنی جگہ برقرار رکھا جائے گا۔