اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 8 ستمبر سے ہوگا۔
حالیہ اضافے سے قبل حکومت نے 5 ستمبر سے 7 ستمبر تک پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی، تاہم اسی عرصے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی تھی۔
حکومت نے 17 جولائی کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے روزانہ جائزے کا نیا طریقہ کار متعارف کرایا تھا، جس نے سابقہ ہفتہ وار نظام کی جگہ لی۔ یہ فیصلہ عالمی تیل کی منڈی میں بڑھتے اتار چڑھاؤ اور امریکہ و ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث ایندھن کی عالمی قیمتوں اور رسد سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے تناظر میں کیا گیا۔
پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق پٹرولیم مصنوعات ملک کی اہم درآمدی اشیا میں شامل ہیں۔ مقامی ریفائنریاں ملکی ضرورت کا صرف ایک حصہ پورا کرتی ہیں جبکہ باقی طلب درآمد شدہ خام تیل اور تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات سے پوری کی جاتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر پاکستان کے درآمدی بل، زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی مہنگائی پر پڑتا ہے، جس کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اثر شہریوں کے سفری اور روزمرہ اخراجات پر بھی نمایاں ہوتا ہے۔