پاک افغان کشیدگی: کیا امریکی ثالثی سے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے گی؟ ذبیح اللہ مجاہد کی پاک ٹوڈے کے ساتھ گفتگو

اسلام الدین ساجد

افغان طالبان حکومت نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے مثبت کردار ادا کرنے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے، اور کہا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تنازعات کا حل مذاکرات میں ہے۔

افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاک ٹو ڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی امارت افغانستان امریکہ سمیت کسی بھی ملک کی جانب سے ثالثی یا تنازع حل کرنے کی کوششوں کو مثبت نظر سے دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’جو بھی ملک پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے میں ثالثی یا مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کرے، اسلامی امارت افغانستان اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔‘‘

مجاہد نے چین، ترکیہ، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت ان ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ماضی قریب میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں۔

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان قطر اور استنبول میں مذاکرات کے بعد چین کے شہر ارومچی میں بھی بات چیت ہوئی تھی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی تو ہوئی، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔

مجاہد نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر مسلسل الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور ان کے بقول جنگ کا آغاز بھی پاکستان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ افغانستان کے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اور اگر امریکہ اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو کابل کو کوئی اعتراض نہیں۔

امریکہ کی ثالثی کی پیشکش

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کے ان سکیورٹی خدشات کو سنا ہے جن کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔

روبیو کے مطابق، اگر امریکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے میں کوئی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان نے امریکی بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے افغان طالبان حکومت کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔

دہشت گردی پر بنیادی اختلافات

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حال ہی میں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر افغان طالبان پاکستان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتے تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے افغان طالبان پر غیر ریاستی عناصر اور عسکریت پسند گروہوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پاکستان اور خطے کے لیے خطرہ ہے۔

پاکستانی فوجی ترجمان نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت مختلف گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے جنگجو افغانستان سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان پر بعض عسکریت پسند رہنماؤں کو پناہ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔

افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں اور پاکستان کے سکیورٹی مسائل کی ذمہ داری افغان حکومت پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

مجاہد کے مطابق، افغان طالبان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور پاکستان کو اپنے داخلی مسائل خود حل کرنے چاہئیں۔

علاقائی تجارت اور امن کی اہمیت

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے عوام بلکہ پورے خطے کے لیے اہم ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان مستحکم تعلقات پاکستان کے لیے وسطی ایشیا اور روس کے ساتھ تجارت کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ مسلسل کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں سے دونوں جانب عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں امریکی ثالثی کی پیشکش اور افغان طالبان کا خیرمقدم مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک ممکنہ موقع فراہم کرتے ہیں، تاہم پائیدار امن کے لیے دونوں فریقوں کو دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور باہمی اعتماد کے بنیادی اختلافات پر پیش رفت کرنا ہوگی۔

 

Related posts

12 اضلاع میں پولیس کی بہتری کے لیے 30 سے 40 ارب روپے درکار ہیں، آئی جی خیبرپختونخوا

نیپال میں ماؤنٹ ایورسٹ ریجن میں دو ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، غیر ملکی شہری ہلاک

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی بھی امن قائم کرنے میں ناکام، پولیس اور پولیو ٹیموں پر حملوں میں اضافہ