اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ان مقامات کے خلاف کی گئیں جہاں مبینہ طور پر ڈرونز ذخیرہ کیے جا رہے تھے اور انہیں پاکستان کی جانب بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ افغانستان میں کی جانے والی کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئیں اور انہیں نپے تلے اور متناسب رکھا گیا۔ ان کے مطابق حملے صرف ان شناخت شدہ فوجی اہداف تک محدود تھے جن کے بارے میں پاکستان کو معلومات حاصل تھیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق کارروائی کا مقصد پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرونز کے نیٹ ورک اور ان سے منسلک فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے بجائے مخصوص فوجی اہداف کو ہدف بنایا گیا۔
دوسری جانب افغانستان میں ہونے والی ان کارروائیوں کے حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے مختلف مقامات پر فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قندھار میں پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ ایک ویران علاقے میں کیا گیا اور اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خوست کے حوالے سے بھی طالبان حکام نے فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں اور حملوں میں ہونے والے نقصانات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
