راولپنڈی (پاک ٹوڈے): راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ، گلشن آباد میں اینکرپرسن ربیعہ احسن کی موت کے معاملے میں گرفتار ان کے شوہر احسن طاہر خان نے پولیس کو ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ گولی حادثاتی طور پر چلی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق احسن طاہر خان نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ وہ اسلحے سے کھیل رہے تھے کہ اچانک گولی چل گئی، جو ربیعہ احسن کو جا لگی۔ گرفتار ملزم اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن میں گریڈ 18 کے سرکاری ملازم ہیں۔
اطلاعات کے مطابق واقعے کے وقت ربیعہ احسن کی والدہ اور بہنیں بھی گھر میں موجود تھیں۔ ابتدائی معلومات میں میاں بیوی کے درمیان کسی تلخ کلامی یا گھریلو تنازعے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا اور ڈی ایس پی صدر مرزا یوسف جائے وقوعہ پر پہنچے۔ تھانہ صدر بیرونی پولیس نے گھر سے شواہد اکٹھے کیے اور مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردی۔
پولیس حکام نے ربیعہ احسن کے ساتھ مبینہ زیادتی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی اصل نوعیت فرانزک اور میڈیکل رپورٹس سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی۔ پولیس نے مقدمے کے اندراج اور قانونی کارروائی کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔
ربیعہ احسن دو بیٹیوں کی والدہ تھیں۔ صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ وہ اسلام آباد میں ایک بیوٹی سیلون بھی چلا رہی تھیں۔ ان کی موت پر صحافتی حلقوں میں افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
