رپورٹ: اسلام الدین ساجد
اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں 50 دوا ساز کمپنیوں نے بعض ادویات کی قیمتوں میں 2,000 فیصد تک اضافہ کیا ہے، جس کے بعد حکومت نے ان کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت نے بتایا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کے دوران ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ حکومت نے 2022 کے بعد کمپنیوں کو غیر ضروری یا نان ایسینشل ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دی تھی، تاہم متعدد کمپنیوں نے اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ اصولی طور پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے مخالف نہیں، کیونکہ بعض ضروری ادویات کی قیمتیں مناسب نہ ہونے کے باعث مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں۔ تاہم ان کے بقول قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لینے اور ان میں اضافے سے متعلق فیصلے کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے سربراہ وزیر خزانہ ہیں۔
مریضوں پر قیمتوں میں اضافے کا بوجھ
پاکستان میں گزشتہ چار سال کے دوران ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مستقل علاج کے محتاج مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ادویات کے کاروبار سے وابستہ افتخار احمد نے پاک ٹوڈے کو بتایا کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد آنے والی حکومت نے دوا ساز کمپنیوں کو قیمتوں میں اضافے کی کھلی چھوٹ دی، جس کا کمپنیوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
ان کے مطابق دل، ذیابیطس، بلند فشار خون اور دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے مسلسل ادویات خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ بعض ادویات جو پہلے تقریباً 200 روپے میں دستیاب تھیں، اب ان کی قیمت 2,000 روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
اسلام آباد کے رہائشی سکندر سلطان نے بتایا کہ وہ اضطراب (اینزائٹی) کے علاج کے لیے پینٹاکسال ایم نامی دوا استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً چار سال قبل اس دوا کے ایک ڈبے کی قیمت 600 روپے تھی، جبکہ اب یہ 2,200 روپے سے زیادہ میں دستیاب ہے۔
افتخار احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دوا ساز کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنے اور قیمتوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کو واپس لینے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی دوا کی قیمت حکومت کی منظوری کے بغیر بڑھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
جعلی اور غیر معیاری ادویات کا مسئلہ
ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ جعلی اور غیر معیاری ادویات کی دستیابی بھی عوامی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
افتخار احمد نے الزام لگایا کہ بعض مقامی کمپنیوں کی ادویات پر درج قیمت اور میڈیکل اسٹورز کو فراہم کی جانے والی قیمت میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ ان کے مطابق بعض ادویات کے ڈبوں پر 300 یا 400 روپے قیمت درج ہوتی ہے، جبکہ وہ میڈیکل اسٹورز کو تقریباً 50 روپے میں فراہم کی جاتی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بعض معاملات میں میڈیکل اسٹورز اور ڈاکٹرز کے درمیان مالی مفادات کے تبادلے کے باعث مریضوں کو ایسی ادویات تجویز کی جاتی ہیں جن کی افادیت مشکوک ہوتی ہے۔
افتخار احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ادویات کی تیاری، معیار، تقسیم اور قیمتوں کے نظام کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور کسی کمپنی، ڈاکٹر یا سرکاری اہلکار کی ملی بھگت ثابت ہونے پر اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور جعلی و غیر معیاری ادویات کی دستیابی نے پاکستان میں صحت کی سہولیات تک رسائی اور علاج معالجے کے بڑھتے اخراجات سے متعلق عوامی خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔