مولانا فضل الرحمن اور حکومت آمنے سامنے، سی ڈی اے کا نوٹس سیاسی محاذ آرائی کا نیا سبب بن گیا

رپورٹ: اسلام الدین ساجد

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور حکومت کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن کی جانب سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کے بعد وفاقی وزراء کے سخت ردعمل اور ان کی رہائش گاہ کو نوٹس جاری ہونے سے سیاسی محاذ آرائی میں مزید شدت آگئی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے تین روز قبل قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی پر بھی بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ایران میں دفاعی امور سے متعلق اجلاس میں وزیر دفاع کی موجودگی زیادہ اہم تھی یا قومی اسمبلی میں ان کی شرکت؟ انہوں نے وزیر داخلہ کی وہاں موجودگی پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

اگلے روز وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مولانا فضل الرحمن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔ جواب میں جمعیت علمائے اسلام کے ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی دونوں وزراء پر تنقید کی۔

مولانا کی رہائش گاہ اور پارٹی مرکز کو نوٹس

سیاسی کشیدگی کے دوران اسلام آباد کی کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کو نوٹس جاری کردیا۔ نوٹس میں مبینہ طور پر گھر کے باہر جنریٹر رکھنے، سیکیورٹی گارڈز کے لیے سی ڈی اے کی زمین استعمال کرنے اور گھر کے اندر اضافی کچن تعمیر کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

سی ڈی اے نے ان مبینہ خلاف ورزیوں کو 15 روز میں دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بصورتِ دیگر رہائش گاہ کو سیل کرنے سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل پشاور میں جے یو آئی کے مرکزی دفتر، مفتی محمود مرکز، کو بھی مقامی انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ نوٹس میں مرکز کے ایک حصے کی سرکاری اراضی پر تعمیر کا دعویٰ کرتے ہوئے مبینہ تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں اس نوٹس کا ذکر کیا، جس کے بعد جے یو آئی نے مرکز کے باہر اپنے کارکنوں اور محافظوں کو تعینات کردیا۔ پارٹی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ وہ مرکز کو کسی بھی کارروائی سے بچانے کے لیے مزاحمت کریں گے۔

حکومت کا الزام، جے یو آئی کا ردعمل

وفاقی وزراء نے الزام عائد کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر اس لیے ناراض ہیں کیونکہ انہیں صوبائی حکومت میں حصہ نہیں دیا گیا۔

تاہم مولانا فضل الرحمن ابتدا ہی سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے مخالف رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے مسائل حل کرانے کی کوشش کی تھی۔

مولانا کے مطابق وزیراعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں کیا جائے گا، تاہم حکومت نے اپنے وعدے سے انحراف کیا۔

جے یو آئی کے رہنما مولانا جلیل جان نے پاک ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کسی دباؤ میں نہیں آئے گی اور مولانا فضل الرحمن پہلے دن سے ہی گورنر راج کے خلاف ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کے بھائی انجینئر ضیاء الرحمن نے سی ڈی اے کے نوٹس کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں محسن نقوی سے اسی طرح کے اقدام کی توقع تھی۔

اس سے قبل جے یو آئی خیبر پختونخوا کے امیر اور سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے حکومتی وزراء کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کون مفتی محمود مرکز کو ہاتھ لگانے کی ہمت کرتا ہے۔

حکومت کے لیے نیا سیاسی محاذ

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمن اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی حکمران اتحاد کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو پہلے ہی پی ٹی آئی کے ساتھ اختلافات اور سیاسی محاذ آرائی کا سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی پاکستان کی ان جماعتوں میں شامل ہیں جن کے پاس سڑکوں پر احتجاج کرنے کی صلاحیت اور منظم کارکنوں کا نیٹ ورک موجود ہے۔ ماضی میں بھی حکومتیں ان جماعتوں کے ساتھ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔

ان کے مطابق اگر مولانا فضل الرحمن کے خلاف کوئی سخت کارروائی کی گئی اور جے یو آئی نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا تو سیاسی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ اس سے پی ٹی آئی کو بھی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک میں ایک نئے اتحادی کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

Related posts

بلوچستان کے ضلع کوہلو میں زیرِ تعمیر سڑک منصوبے کی مشینری نذرِ آتش

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات میں ابتدائی پیش رفت، آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی بات چیت

مجتبیٰ خامنہ ای کی فوجی کمانڈروں کو دشمن کے خطرے کا فوری جواب دینے کی ہدایت