رپورٹ: ریاض حسین
پاکستان میں صحافیوں کو 2025-26 کے دوران تشدد، دھمکیوں اور قانونی دباؤ کا سامنا رہا، جس کے باعث آزادیٔ صحافت اور میڈیا کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔ یہ انکشاف اسلام آباد میں میڈیا حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کی ایک تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2025 سے اگست 2026 تک صحافیوں کے خلاف مجموعی طور پر 78 واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے، جن میں ایک صحافی کا قتل، قتل کی کوششیں، جسمانی تشدد، دھمکیاں اور قانونی کارروائیاں شامل ہیں۔ اگرچہ گزشتہ رپورٹنگ مدت کے مقابلے میں خلاف ورزیوں کے واقعات میں کمی آئی، تاہم رپورٹ کے مطابق اس کمی کو صحافیوں کے لیے زیادہ محفوظ ماحول کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فریڈم نیٹ ورک کی سالانہ رپورٹ ’’امپیونٹی رپورٹ 2026‘‘ کا عنوان ’’تشدد سے قانونی دباؤ تک: صحافیوں کے لیے قانونی عمل بطور سزا‘‘ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں صحافیوں کے خلاف ماہانہ اوسطاً تقریباً 10 واقعات پیش آئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صحافیوں کو درپیش خطرات بدستور موجود ہیں۔
یہ رپورٹ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (آئی ایم ایس) کی تکنیکی معاونت اور فریڈم نیٹ ورک کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ میں صحافیوں کے خلاف جسمانی تشدد اور دھمکیوں کے ساتھ ساتھ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت قانونی کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی آزاد صحافت کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
آزادیٔ اظہار دیگر بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے
فریڈم نیٹ ورک پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر، خصوصاً ایران سے متعلق تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم ملک کے اندر بھی آزادیٔ اظہار اور جمہوری حقوق کے تحفظ پر اسی طرح توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا:
’’آزادیٔ اظہار اور تنقید کرنے کی آزادی بنیادی حقوق ہیں۔ ان آزادیوں کے بغیر دیگر حقوق کے تحفظ کا تصور بھی مشکل ہے۔ درحقیقت آزادیٔ اظہار دیگر تمام انسانی حقوق کی ماں ہے۔‘‘
اقبال خٹک کے مطابق پاکستان کو بین الاقوامی سفارت کاری کی طرح اپنے داخلی مسائل، خصوصاً خیبر پختونخوا کی صورتحال، کے حوالے سے بھی مثبت اور مؤثر فیصلے کرنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ پیکا قانون کے تحت صحافیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے ان کی آزادانہ رائے کے اظہار اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے افراد کو اپنی آواز عوام تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتے ہیں جنہیں اخبارات یا ٹیلی ویژن پر اظہارِ رائے کے مناسب مواقع نہیں ملتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوام کے لیے کھلے رہنے چاہییں تاکہ لوگ اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کر سکیں، خصوصاً اس صورت میں جب روایتی میڈیا ان کی آواز شائع یا نشر نہ کر سکے۔
اقبال خٹک نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کو دبانے کی کوششیں پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں ہیں۔
صحافیوں کو خبروں اور متاثرہ علاقوں تک رسائی میں مشکلات
خیبر پختونخوا کی سینئر صحافی فرزانہ علی نے کہا کہ پاکستان میں صحافت کو بڑھتی ہوئی پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ معلومات اور واقعات سے متاثرہ علاقوں تک رسائی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق صحافیوں پر اس حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کون سی خبریں دیں، کن افراد کو ٹی وی پروگراموں میں مدعو کریں اور اپنے تجزیوں میں کن موضوعات پر بات کریں۔
فرزانہ علی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے متعلق حساس معاملات پر ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پوڈکاسٹس اور یوٹیوب چینلز پر اظہارِ خیال بھی بعض اوقات صحافیوں کے لیے پیشہ ورانہ مشکلات اور ملازمت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حساس علاقائی معاملات پر رائے دینے کے باعث انہیں بھی پیشہ ورانہ دباؤ اور ملازمت سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق صحافیوں کو دھمکیاں ملنے، ان کے گھروں پر حملوں اور واقعات کی رپورٹنگ میں رکاوٹوں نے میڈیا کے لیے کام کرنے کا ماحول مزید مشکل بنا دیا ہے۔
فرزانہ علی نے کہا:
’’صحافی کسی کے ترجمان یا ماؤتھ پیس نہیں ہوتے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کو رپورٹ کریں اور حقائق عوام تک پہنچائیں۔‘‘
ان کے مطابق آزاد صحافت کے لیے آزادیٔ اظہار، معلومات تک رسائی، پیشہ ورانہ دیانت داری اور صحافیوں کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
پنجاب میں صحافیوں کے خلاف سب سے زیادہ واقعات
رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران صحافیوں کے خلاف دستاویزی شکل میں سامنے آنے والے 78 واقعات میں شامل ہیں:
* پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ایک صحافی کا قتل۔
* قتل کی تین کوششیں۔
* قتل یا جسمانی نقصان پہنچانے کی 18 دھمکیاں۔
* جسمانی تشدد کے 11 واقعات۔
* 13 قانونی کارروائیاں۔
* قانونی کارروائی کی 32 دھمکیاں۔
صوبائی اعتبار سے پنجاب 49 واقعات کے ساتھ سرفہرست رہا، جو مجموعی تعداد کے نصف سے زیادہ ہیں۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور بلوچستان میں بھی صحافیوں کے خلاف خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔
رپورٹ میں ڈیجیٹل میڈیا اور آزاد صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں کو زیادہ متاثر ہونے والے گروہوں میں شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، صحافیوں یا ان کے اہلِ خانہ نے تقریباً دو تہائی واقعات میں سرکاری اداروں اور حکام کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔
پیکا قانون اور قانونی کارروائیوں کا بڑھتا ہوا استعمال
رپورٹ میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے صحافیوں کے خلاف اس قانون کے استعمال کو آن لائن صحافت کے لیے ایک اہم تشویش قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ہتکِ عزت، غلط معلومات پھیلانے، ہراسانی اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت قانونی کارروائیاں بعض صحافیوں کے لیے دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔
رپورٹ میں شامل بعض مقدمات مبینہ طور پر ایسی صحافتی تحقیقات اور رپورٹنگ کے بعد سامنے آئے جن میں سرکاری اخراجات، بدعنوانی کے الزامات اور سرکاری حکام کے طرزِ عمل سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانونی کارروائی کا حتمی فیصلہ آنے سے پہلے ہی اس عمل کے دوران صحافیوں کو مالی، پیشہ ورانہ اور ذاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان مشکلات میں بار بار طلبی، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی جانچ پڑتال، سفری اخراجات، وکلا کی فیس، حراست، عدالتوں میں پیشیاں اور پیشہ ورانہ ساکھ کو پہنچنے والا نقصان شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بعض مقدمات میں صحافیوں کو ملنے والا ریلیف ضمانت یا عارضی قانونی تحفظ تک محدود رہا، جبکہ ان کی بے گناہی کے حتمی تعین اور ساکھ کی بحالی کا معاملہ حل طلب رہا۔
رپورٹ میں پیکا سے متعلق مقدمات کا سامنا کرنے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے لیے رہنما اصول بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ وہ قانونی کارروائیوں کے ممکنہ منفی اثرات سے نمٹ سکیں۔
صحافیوں کے تحفظ کے کمیشنوں کی کارکردگی پر سوالات
رپورٹ میں صحافیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنیٰ کے خاتمے کے لیے قائم ادارہ جاتی نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، وفاقی سطح اور سندھ میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کمیشن قائم ہونے کے باوجود ان اداروں کی عملی کارکردگی اور رسائی محدود رہی ہے۔
وفاقی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کا نظام عملاً غیر فعال قرار دیا گیا ہے، جبکہ سندھ کا کمیشن نسبتاً زیادہ فعال ہونے کے باوجود کراچی سے باہر محدود رسائی رکھتا ہے اور صوبے کے دیگر علاقوں میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے اس کے عملی اثرات محدود ہیں۔
اقبال خٹک نے کہا کہ رپورٹ کے نتائج متعلقہ حکام، خصوصاً صحافیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنیٰ کے خاتمے کے لیے قائم کمیشنوں کے ذمہ داران کے لیے باعثِ تشویش ہونے چاہییں۔
رپورٹ کے مطابق، صحافیوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور قانونی دباؤ کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واقعات کی تعداد میں کمی کو آزادیٔ صحافت یا صحافیوں کے تحفظ میں بہتری کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
