تحریر: اسلام الدین ساجد
اسلام آباد: پاکستان کے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پیٹرولیم لیوی میں فوری کمی کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس ٹیکس کو مرحلہ وار کم کرنے کے لیے تجاویز پر غور کر سکتی ہے۔
پاکستانی اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی جمعے کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، احسن اقبال نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کے دباؤ پر فوری طور پر پیٹرولیم لیوی کی شرح کم نہیں کرے گی، تاہم اس معاملے پر مذاکرات اور آئندہ بجٹ کے لیے قابلِ عمل تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کے امکانات پر غور کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں حکومت اور جماعت اسلامی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ کمیٹی کا حصہ ہوں گے، جبکہ جماعت اسلامی اپنے تین نمائندے نامزد کرے گی۔
احسن اقبال کے مطابق، دونوں فریقوں کا مشترکہ مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، تاہم حکومت کو ملک کی موجودہ معاشی صورتِ حال اور محدود مالی وسائل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران پاکستان میں پیٹرولیم لیوی کے نفاذ پر جماعت اسلامی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے وفد نے رواں ہفتے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔
آئی ایم ایف اہداف اور پیٹرولیم لیوی کی وصولی
دوسری جانب، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے طے کردہ اہداف کا حصہ ہے۔
ان کے مطابق، حکومت نے مالی سال 2022-23 سے اب تک پیٹرولیم لیوی کی مد میں مجموعی طور پر 4.4 ٹریلین روپے وصول کیے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں حاصل ہونے والی یہ رقم حکومت کے اپنے مقرر کردہ اہداف سے 227 ارب روپے زیادہ ہے۔
حکومت اس وقت فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کی مد میں 80 روپے، کلائمیٹ لیوی کے طور پر 5 روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 20.56 روپے وصول کر رہی ہے۔ اس طرح پیٹرولیم مصنوعات پر ان تینوں مدات میں مجموعی ٹیکس تقریباً 106 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے بڑی مشکل سے معاشی استحکام حاصل کیا ہے اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی گنجائش نہیں۔ ان کے بقول، عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مختلف ممالک ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی حالات غیر یقینی ہیں اور مشرق وسطیٰ میں تنازع کے دوران کسی بھی وقت پیدا ہونے والی صورتِ حال تیل کی قیمتوں کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔ حکومت کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا ہوگا جو وقتی طور پر عوامی مقبولیت تو حاصل کر لیں، لیکن مستقبل میں ملک کے لیے بڑے معاشی بحران کا سبب بن جائیں۔
جماعت اسلامی کا مؤقف: لیوی مکمل ختم کی جائے
ادھر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے جمعرات کو کراچی میں ادارہ نورِ حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ دونوں جانب کی کمیٹیاں بیٹھ کر پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے معاملے پر بات کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سفارشات مرتب کرنے کے لیے سات سے دس دن کی مہلت مانگی تھی، جو جماعت اسلامی نے دے دی ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے لیوی ختم نہ کی تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا لانگ مارچ مؤخر نہیں ہوا بلکہ اس کا فیصلہ برقرار ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ معاشی بحرانوں کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ بااثر کاروباری حلقوں اور مبینہ مافیاز کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
