اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جے یو آئی کے بغیر ملک میں حکومت کا بننا اور چلنا ممکن نہیں۔ اگر حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی الگ ہوتی ہے تو موجودہ سیٹ اپ محض ایک اقلیتی حکومت بن کر رہ جائے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے امکانات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت اپوزیشن اس پوزیشن میں نہیں کہ عدم اعتماد لائے اور نہ ہی اس معاملے پر ابھی کوئی حتمی غور کیا گیا ہے، تاہم اگر عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو جے یو آئی اس کا ساتھ دے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے نشاندہی کی کہ ملک میں پارلیمانی طرزِ حکومت کو مستحکم نہیں ہونے دیا جا رہا جبکہ معیشت کی بدحالی اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ انہوں نے سکیورٹی کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بارہا نشاندہی کر چکے ہیں کہ دو صوبوں میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ سندھ میں اسٹریٹ کرائمز عروج پر ہیں جبکہ بلوچستان میں دن دیہاڑے بینک لوٹے جا رہے ہیں اور شہریوں یا مالیاتی اداروں کو تحفظ فراہم کرنے والا کوئی نظام موجود نہیں۔
انہوں نے انتظامی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز ان کے ایک سینیٹر کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا جس کی وجہ سے وہ چین کے دورے پر نہ جا سکے، جبکہ خیبر پختونخوا میں وزراء تک کو سڑکوں پر روکا جا رہا ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ عوام کے مسائل کا کوئی مداوا نہیں ہو رہا اور جب کچھ جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا تو دارالحکومت اسلام آباد کو کنٹینرز لگا کر بلاک کر دیا گیا۔
بین الاقوامی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کو آگے بڑھنا چاہیے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس جغرافیائی و اقتصادی فریم ورک میں مصر اور ایران کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا۔
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ صوبوں کے قدرتی اور معاشی وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے اور ان کی جماعت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے صوبائی حقوق کی جنگ پوری قوت سے لڑتی رہے گی۔
