پشاور (پاک ٹوڈے): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امریکا میں پناہ لینے والے 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان افراد کو پہلے پاکستان اور پھر سرحد پار افغان حکام کے حوالے کیا جائے گا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ان افغان شہریوں میں سابق افغان حکومت کے اتحادیوں کے رشتہ دار اور اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ یہ افراد امریکا کی مختلف جیلوں اور حراستی مراکز میں قید ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے والے تین امریکی افسران کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈی پورٹیشن کی پہلی پرواز 2 نومبر کو روانہ ہونے کا امکان ہے۔ امریکا کے طالبان حکومت کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث پاکستان کو ان افراد کی افغانستان منتقلی کے لیے درمیانی راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ملک کے مختلف حراستی مراکز سے افغان شہریوں کو لوزیانا کے ایک حراستی مرکز میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں سے نومبر کے پہلے ہفتے میں چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے انہیں پاکستان بھیجنے کا منصوبہ ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس منصوبے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
