وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کے خلاف درخواست نمٹا دی

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کے خلاف دائر درخواست غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دی۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔

یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما شیر افضل خان مروت نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے اکتوبر 2025 میں استعفے کے خلاف دائر کی تھی۔ علی امین گنڈاپور کے بعد سہیل آفریدی نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ سے متعلق حالیہ پیش رفت کے بعد درخواست کی سماعت کیسے ممکن ہے۔ اس پر شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا مقدمے میں مختصر التوا دیا جائے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کے احتیاطی حراست میں ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ پی ٹی آئی نے ان اقدامات کے بعد سہیل آفریدی کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی اختیار کیے ہوئے تھی، جس کے باعث ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

Related posts

بونیر میں دو فریقین کے درمیان مسلح تصادم، متعدد افراد جاں بحق، ایک زخمی

خیبر: باڑہ بازار کی کئی روز سے بندش، تاجروں اور عوام کو مشکلات

قبائلی اضلاع کے صحافیوں کی دو نئی تنظیمیں قائم، صفدر داوڑ اور ڈاکٹر حمیرا عنبرین سربراہ مقرر