پشاور (پاک ٹوڈے): جنگ، بدامنی اور ہنگامی حالات سے متاثرہ 12 قبائلی اور ملحقہ اضلاع کے صحافیوں نے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ اور آزاد و ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے ٹرائبل جرنلسٹس کونسل (TJC) اور ٹرائبل فی میل جرنلسٹس کونسل (TFJC) کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
ٹرائبل جرنلسٹس کونسل کی مرکزی کابینہ میں شمالی وزیرستان کے صفدر داوڑ کو صدر منتخب کیا گیا ہے، جبکہ ضلع کرم کے علی افضل سینئر نائب صدر، بنوں کے عبدالسلام بیتاب نائب صدر، ضلع خیبر کے ابراہیم شینواری جنرل سیکرٹری، مہمند کے سید بادشاہ مہمند جوائنٹ سیکرٹری، ٹانک کے عدنان بیٹنی فنانس سیکرٹری، باجوڑ کے انوار اللہ پریس سیکرٹری اور جنوبی وزیرستان کے ظفر وزیر ایونٹ سیکرٹری مقرر ہوئے ہیں۔ ہر ضلع سے دو ایگزیکٹو ممبران بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ٹرائبل فی میل جرنلسٹس کونسل کی صدارت ڈاکٹر حمیرا عنبرین کو سونپی گئی ہے، جبکہ ښکلا مہمند سینئر نائب صدر اور بشریٰ شینواری جنرل سیکرٹری مقرر ہوئی ہیں۔ خواتین کونسل قبائلی اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں خواتین صحافیوں کو درپیش مشکلات کے حل، تربیت، تحفظ اور صحافت میں ان کی شمولیت بڑھانے کے لیے کام کرے گی۔
دونوں تنظیموں کے مطابق ان کے قیام کا مقصد صحافیوں کو ایک مشترکہ، آزاد اور غیر سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں وہ محدود وسائل اور سیکیورٹی خطرات کے باوجود عوامی مسائل اور انسانی مشکلات کو مؤثر انداز میں اجاگر کر سکیں۔
تنظیموں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، پاک فوج، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ممکنہ فوجی آپریشنز اور ہنگامی حالات میں شہریوں کے حقِ معلومات کو اہمیت دی جائے۔ عوام کو خطرات، محفوظ راستوں، نقل مکانی، طبی سہولتوں اور امدادی مراکز سے بروقت آگاہ کرنے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
انہوں نے ہلاکتوں، زخمیوں، لاپتا افراد، املاک کے نقصانات اور بے گھر خاندانوں سے متعلق مستند معلومات کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں اور مقامی صحافیوں کے درمیان رابطہ کمیٹیاں بنانے پر بھی زور دیا۔
دونوں کونسلز نے صحافیوں کو دھمکیوں، تشدد، ہراسانی، غیر قانونی حراست، جبری گمشدگی اور بلاجواز مقدمات سے تحفظ دینے، صحافیوں پر حملوں کی شفاف تحقیقات کرنے اور خطرناک علاقوں میں کام کرنے والوں کو حفاظتی سامان، ابتدائی طبی امداد، ڈیجیٹل سیکیورٹی اور قانونی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
تنظیموں نے واضح کیا کہ وہ ایسی حساس معلومات کی اشاعت کی حمایت نہیں کرتیں جن سے شہریوں، صحافیوں یا سیکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کو خطرہ ہو، تاہم سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر عوامی اہمیت کی معلومات روکنے کو بھی درست نہیں سمجھتیں۔ ان کے مطابق صحافت کا بنیادی مقصد حقائق کی آزادانہ تصدیق اور درست معلومات کی فراہمی ہے۔
خواتین صحافیوں کی نمائندگی بڑھانے کے لیے ٹرائبل فی میل جرنلسٹس کونسل تربیت، رہنمائی، محفوظ رپورٹنگ، ڈیجیٹل تحفظ اور روزگار کے مواقع پر کام کرے گی۔ اس مقصد کے لیے قومی و بین الاقوامی اداروں، جامعات اور تربیتی مراکز سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
دونوں تنظیموں نے صحافتی تنظیموں، پریس کلبوں، انسانی حقوق کے اداروں، بین الاقوامی میڈیا تنظیموں اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی، مسلکی، لسانی اور علاقائی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کام کریں گی۔ ان کے مطابق صحافتی آزادی، حقِ معلومات اور صحافیوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔