ڈھاکہ (پاک ٹوڈے): بنگلہ دیش اور بھارت کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی کے باعث نو منتخب بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم طارق رحمان نے اپنا پہلا متوقع دورۂ ہند منسوخ کر دیا ہے۔ ڈھاکہ کی جانب سے بھارتی حکومت کو واضح کیا گیا ہے کہ جب تک شیخ حسینہ کی حوالگی سمیت دیگر حل طلب معاملات پر پیش رفت نہیں ہوتی، اعلیٰ سطح کے دورے کا ماحول سازگار نہیں ہو سکتا۔
بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اے کے ایم شاہدال کریم نے پریس بریفنگ میں اس اہم پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ کچھ عرصے سے انڈین میڈیا اور سفارتی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ طارق رحمان بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی دعوت پر نئی دہلی جائیں گے، تاہم اب بنگلہ دیش نے اپنے موقف میں سختی لاتے ہوئے اس دورے کو فی الحال روک دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق، بنگلہ دیش نے بھارت سے دوطرفہ معاہدوں کے تحت سابق وزاعظم شیخ حسینہ اور دیگر مفرور ملزمان کے ساتھ ساتھ شہید شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث افراد کی فوری بلاتعطل حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت اب دہلی کے اگلے قدم اور جواب کی منتظر ہے، جس کی بنیاد پر آئندہ کے سفارتی روابط کا تعین کیا جائے گا۔